اصحاب احمد (جلد 5) — Page 658
تفصیل خاکہ مندرجہ بر صفحه ۱۴۴ تیار کردہ خاکسار مؤلف اصحاب احمد بتاریخ ۲۸ جولائی ۱۹۶۳ء) نوٹ نمبرا: چونکہ بعض پیمائشیں کمروں کے اندر سے لی گئی ہیں اور بعض باہر سے۔اس لئے خاکہ پوری طرح سکیل کے مطابق نہیں۔جو حصے موجود نہیں ان کا مقام نقطوں سے ظاہر کیا گیا ہے۔نوٹ نمبر ۲: خاکسار مؤلف نے قریباً دو ماہ کی تگ و دو سے یہ فصیلی معلومات حاصل کی ہیں اور ان کے مطابق خاکہ بھی خود ہی تیار کیا ہے اس پر اتنا عرصہ صرف اس خاطر صرف کیا ہے تا کہ یہ ریکارڈ محفوظ ہو جائے کہ بعد میں جو تعلیمی اداروں کی شاندار عمارات تعمیر ہو رہی ہیں اور ہمیشہ ہوتی رہیں گی اُن کا آغاز رکس بے سروسامانی کی حالت میں ہوا تھا۔تمام کمرے خالی اینٹوں کے بنے ہوئے تھے۔اتنا امن بھی میسر نہ تھا کہ قادیان میں حضرت مسیح و مہدی علیہ السلام اپنی مملوکہ اراضی میں کوئی عمارت تعمیر کراسکیں۔ایسے کچے کمروں میں کالج کا افتتاح بھی ہوا۔باوجود ان حالات کے جو روحانی سکیت و اطمینان حاصل تھا اس پر ہزاروں راحتیں اور سامان قربان ! اس سکینت واطمینان کے دور کی یاد ہمیشہ ہمیش تڑپاتی رہے گی۔بلکہ یہ تڑپ روز افزوں ہوتی جائے گی۔حضور فرماتے ہیں ؎ امروز قوم من نه شناسا مقام من روزی به گریه یاد کنند وقت خوشترم نوٹ نمبر ۳: اس خا کہ میں صرف وہ عمارات دکھائی گئی ہیں جن کے متعلق یہ یقینی طور پر معلوم ہو گیا کہ وہ حضور اقدس کے عہد میں تعمیر ہو چکی تھیں۔اس مبارک عہد کے بعد تعمیر کئے گئے حصے خاکہ میں یا تفصیل میں ترک کر دیئے گئے ہیں۔مثلاً نمبر ت کے جنوب میں اس وقت دستی بلکہ ہے جہاں اس سے قبل کنواں ہوتا تھا۔یہ کنواں اور بعدہ ملکہ حضرت محمد الحق صاحب نے خلافت ثانیہ میں لگوایا تھا اور ۲ ، ۱۷ کے درمیان کے کمرے۔مشرقی پھاٹک ،مغربی پھاٹک اور نمبر ۲۷ کے درمیان میں کمرے حضرت اقدس کے عہد مبارک کے بعد کسی وقت تعمیر ہوئے تھے۔کمرہ نمبر ت سے نمبر ۵ تک جودو کمرے تعمیر شدہ ہیں جس میں نمبر ۳ والی دکان کی جگہ بھی شامل کر لی گئی تھی ( گومولوی صاحب کو نمبر ۳ کی دکان اور نمبر ۵ کا ہونا یا تعمیر شدہ ہونا یاد نہیں) اور مشرقی صحن والا کنواں اور نمبر ۷، ۸ سے جانب شرق نمبر ۹ تک کے درمیان کی جگہ میں تعمیر شدہ کمرے اور نمبر ۵ کے متصل جانب