اصحاب احمد (جلد 5) — Page 649
ان کو کھانا دینا چاہتا ہے۔جیسا کہ صراحتاً بھی اس کا ذکر آگے آئے گا۔جہاں فرمایا ہے وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسَى لَنْ نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَّاحِدٍ۔اور جواب ملا کہ اهبطوا مصرًا فان لكم ما سألتم چہارم یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کچھ حکم دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم کو زیادہ ملے گا اور نہ تو سزا ہوگی۔لیکن انہوں نے خلاف ہی کیا۔پنجم یہ کہ خلاف ورزی پر جو سز املی اور رجز یعنی وہاتھی جس سے ظالم تباہ ہوئے۔ان امور کو ایک طرف ملحوظ رکھ کر پھر ہم تو رات کے بیان کردہ واقعات پر نظر رکھتے ہیں تو وہاں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو من اور سلویٰ ابتدائے سفر میں ملنے لگے۔لیکن ذخیرہ کرنے سے ان میں و با پڑی اور سلوٹی بند ہو گیا۔اور من حضرت ہارون اور موسیٰ کے بعد یوشع کے عہد میں بھی اریحا کے فتح ہونے تک (جو کہ بیرون دریا کے پار پہلا شہر ملا تھا اور یوشع نے بھی پہلے یہی فتح کیا تھا ) ملتا رہا ہے۔اور اس کی فتح سے بند ہوا۔اور اس اثنا میں بہت دفعہ انہوں نے من کے کھانے سے نفرت اور گھبراہٹ کا اظہار کیا تھا لیکن بجز اس کے اور کیا جواب ہوسکتا تھا کہ بیابان میں تو ہماری مطلوبہ اشیاء مہیا نہیں ہوسکتیں۔پس اگر وہ اشیاء مطلوب ہیں تو پھر دشمن سے لڑو اور اس ملک کو فتح کرو جو کہ خدا نے تمہیں عنایت کیا ہے۔یوشع سے پہلے اور حضرت ہاورن کے بعد حضرت موسیٰ نے بھی بیرون دریا کے ورلی طرف کچھ فتوحات کی تھیں جن کے نام کتاب گنتی کے مطابق یہ ہیں۔(۱) سب سے پہلے عراد کنعانی کو قتل کر کے اس کا ملک فتح کیا۔جس کا پایہ تخت دکن کے اطراف میں تھا۔(۲) اس کے بعد نہر ارنوں کے پارا موریوں کے بادشاہ سیمون کو قتل کر کے اس کے سب علاقوں پر اسرائیل قابض ہوا۔جس کا پایہ تخت جسون شہر تھا۔(۳) اس کے بعد بسن کے بادشاہ عوج کو قتل کر کے اس کے سارے ملک کو فتح کیا۔(۴) اس کے بعد دریان کے پانچ بادشاہوں کو قتل کر کے ان کا ملک فتح کیا۔یہ ہیں حضرت موسیٰ کی فتوحات۔عراد کنعانی کے ساتھ جنگ سے پہلے متصل یہ لکھا ہے کہ پھر خداوند نے موسیٰ اور ہارون کو کہا۔اس لئے کہ تم مجھ پر اعتقاد نہ لائے تا کہ بنی اسرائیل کے حضور میری تقدیں کرتے۔سو تم اس جماعت کو اس زمین میں جو میں نے انہیں دی ہے نہ لاؤ گے تب موسیٰ نے قادس سے اودم کے بادشاہ کو پیچی کے ہاتھ یوں کہلا بھیجا اور عراد کنعانی کی فتح کا بیان باب ۲۱ کی ابتدائی آیتوں میں ہے اور اس کے بعد آیت ۵، ۶ میں لکھا ہے اور لوگوں نے خدا اور موسیٰ سے بگڑ کے یوں کہا کہ تم کیوں ہم کو مصر سے نکال لائے کہ ہم بیابان میں مریں۔یہاں تو نہ روٹی ہے نہ پانی ہمارے جی کو اس ہلکی روٹی سے کراہیت آتی ہے تب خداوند نے ان لوگوں میں جلانے والے سانپ بھیجے۔انہوں نے لوگوں کو کاٹا اور بہت سے بنی اسرائیل مرمٹے۔اس کے بعد پھر سیمون بادشاہ اور عوج پر جب فتح پائی تو اس کے بعد لکھا ہے کہ بلق بن صفور بادشاہ نے بلعام بن عور کو بلا کر بنی اسرائیل کے لئے بددعا کرانے کی کوشش کی اور پھر انجام یہ ہوا کہ اسرائیلیوں نے حوابیوں کی بیٹیوں سے حرام کاری