اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 629 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 629

۶۳۵ اور یایوں کہو کہ ان کے ساتھ ہی مدفون ہو گئے ہیں۔مثلاً حضرت موسیٰ“ کا عصا اور ید بیضا بڑے عظیم الشان معجزے تھے لیکن آپ کے انتقال کے ساتھ ہی وہ بھی اس جہان سے انتقال کر گئے۔قرآن مجید دائمی معجز مثل لانے کے لئے دعوت مقابلہ لیکن آنحضرت کا یہ معجزہ ایسا ہے کہ قیامت تک اس کے لئے فنا نہیں ہے۔بلکہ جس قدر زمانہ زیادہ ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی عظمت زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ناظرین غور تو کریں کہ آج سے ۱۳۲۴ سال پہلے جبکہ عرب کی ساری ہمت حسن کلام اور جودت بیان کی طرف مصروف تھی ایک ایسے شخص نے خدا کے نام پر ایک کتاب ان کے آگے پیش کی کہ جس پر مخالفوں نے رنگا رنگ کے افتراء کئے ہیں پر کسی نے آپ پر شاگردی اور تلمیذی کا اتہام تک بھی نہیں لگایا۔یعنی کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ فلاں مجلس مشاعرہ یا فلاں محفل شعر وسخن میں کبھی شریک ہوئے تھے تو جب قوم نے اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے میں اپنے شک کا اظہار کیا تو اس نے علی رؤس الشہا د پکار کر یہ کہ دیا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اگر تم سچے ہو تو پھر کوئی سورۃ اس کی مثل لاؤ۔اور اس کام میں مدد لینے کے لئے اپنے سب مددگار بلالو اور یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ جو سورۃ تم لائے ہو وہ بے شک قرآن کی مانند ہے۔تم اپنے ہی آدمیوں میں سے کسی کو منصف بنالو۔پھر اس نے اپنے صدق و کذب کا سارا دارو مدار اسی فیصلہ پر رکھ دیا۔پھر ناظرین عذر کر سکتے ہیں کہ عربوں جیسی غیور قوم کو ایسے امر میں اپنے مقابلہ پر للکارا ہے کہ جس میں ان کو دعویٰ اور ناز ہے۔پھر اس للکارنے والے کے مقابلہ پر بھی وہ اس قدر برافروختہ ہوئے ہیں کہ اس کی تباہی ،اس کی تکذیب کے لئے وہ اپنے اقارب ، اپنی اولاد، اپنی جانیں دینے پر تیار ہی نہیں بلکہ بہت سے دے چکے اور باقی دے رہے تھے۔اور جس غرض کے لئے وہ یہ کچھ دے رہے تھے وہ غرض ایک چھوٹی سی چھوٹی سورۃ پیش کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔پر کوئی پیش نہیں کرتا اور جب شرمندہ کیا جاتا ہے تو عذر گناہ بدتر از گناہ کے مطابق یہ جواب دیتے ہیں کہ لو نشاء لقلنا مثل هذا۔( اگر ہم چاہتے تو اس کی مثل کہہ دیتے ) اور یہ خیال نہیں کرتے کہ اگر مخاطب نے ہم سے یہ سوال کیا کہ پھر تم کیوں نہیں چاہتے تو اس وقت ہمارا ناطقہ ضرور ہی بند ہو جاوے گا۔کیونکہ ہم وہی ہیں جو کہ مال و جان اس غرض کے حاصل کرنے کے لئے خرچ کر رہے ہیں جو کہ اس بات سے بآسانی حاصل ہو سکتی ہے۔پھر یہ مطالبہ اس وقت سے لے کر آج تک بدستور چلا آیا ہے۔اور اس کتاب کی مخالفت پر بڑی بڑی طاقت ور قو میں پانی کی طرح اپنے مال اور خون بہاتی رہیں ہیں لیکن کسی نے بھی کسی چھوٹی سی چھوٹی سورۃ کے برابر بھی کوئی عبارت پیش نہ کی کہ لوہم نے فلاں سورۃ کی مثل ایک سورۃ بنا کر پیش کر دی ہے۔