اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 628 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 628

۶۳۴ کے لاریب فیہ ہونے میں بیمار کے فرض کو ادا شدہ قرار دیا جاوے۔اور وہ ہے اس نسخہ کا استعمال کرنا اور اس کے مطابق پر ہیز رکھنا تو جب یہ کہیں گے کہ اس کا مفید ہونا لاریب فیہ ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ بیمار جب اس کو استعمال کرتا ہے تو ضرور یہ مفید پڑتا ہے نہ یہ کہ استعمال اور پر ہیز کے سوا ہی اس کا مفید ہونا لا ریب فیہ ہے۔اسی تعلق میں مزید فرماتے ہیں کہ۔اس سورۃ کا اصل دعوی ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فيه ہے۔اس کے بعد اس کی غرض اور فائدہ کا اور اس کے متعلقہ چندا مور کا بیان ہے اور یاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا۔الخ میں اصل مدعا کے حاصل کرنے کا جوطریق عنایت فرمایا ہے۔اس کی نسبت وہ یہ عذر بیان کرتے تھے کہ جب تک انسان کو اس امر کا یقین حاصل نہیں ہوتا کہ جو طریق فلاں امر یا غرض کے حاصل کرنے کے لئے بیان کیا گیا ہے۔فی الحقیقت اس سے یہ مقصد ضروری ہی حاصل ہو جاوے گا تو تب تک وہ نہ اس طریق کو استعمال کرتا ہے اور نہ ارادت سے اس کے اختیار کرنے کے لئے اس کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔اور جو طریق يَأَيُّهَا النَّاسُ میں بیان ہوا ہے اس کے مفید ہونے کا یقین تب ہو کہ پہلے اس کتاب کے منجانب اللہ ہونے کا ہمیں یقین حاصل ہو کہ جو کہ اب تک نہیں ہے۔۔وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ۔الخ سے وہ کام لئے ہیں۔اول تو ان کے عذر مذکور کا رفع کرنا اور اس کی تصریح وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ اور اِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ کے ساتھ فرمائی ہے۔دوم یہ کہ اس سورۃ کا جو اصل دعوئی اور مدعا ہے اور وہ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فيه ہے اس کے ثابت کرنے کے لئے یہ پہلی وہ دلیل ہے۔یہ دلیل چونکہ عقلی ہے اور مسلمات پر مبنی نہیں۔لہذا اس کو کسی قوم سے خصوصیت بھی نہیں ہے۔اور اصل دعوی دلیل ہونے کی طرف فِی ریب میں اشارہ ہے۔کیونکہ جب انسان اصل دعوی میں لا ریب پر اور یہاں پرفی ریب پر نظر کرے گا اور وانُ كُنتُمُ الخ کی صورت سے اس کے ذہن میں یہ بات بھی ضرور آچکی ہوگی کہ یہ کلام کسی امر اور دعویٰ کی دلیل ہے تو لا ریب ضرور ہی اس کے ذہن میں یہ بات جانشین ہو جاوے گی۔دعوی لا ریب پر دائمی یقینی دلیل لاريب والا کلام دعوئی ہے اور فِی رَيْبِ والا دلیل ہے۔اور یہ دلیل علاوہ ایک عظیم الشان دائمی معجزہ ہونے کے ایسے کلی اور نہایت اعلیٰ درجہ کے قومی اور یقینی اصول پر مبنی ہے کہ جن کے باعث یہ قرآن مجید کے منکروں کے لئے ایسی حجت ملزمہ ہے کہ اس کے آگے کچھ چون و چرا نہیں کر سکتے۔دائی معجزہ ہونا تو بالکل ظاہر ہے۔کیونکہ انبیاء کے سب معجزات ایسے ہیں کہ ان کے ساتھ ہی وہ بھی اس جہان فانی کو الوداع کہہ گئے ہیں