اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 624 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 624

۶۳۰ فی الحقیقت کوئی نزاع نہیں ہے ہاں بظاہر نزاع کی صورت نظر آتی ہے۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ ایمان اصل میں یقین اور تسلیم کے مجموعہ کو کہتے ہیں۔اور یہ کہ شریعت میں اس کے چار معنے آئے ہیں۔اور ایک معنوں کے لحاظ سے اس میں عقائد حقہ اور اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ داخل ہیں اور اب یہ جاننا چاہئے کہ اسلام حقیقت میں ایسے قول و فعل کو کہتے ہیں جو کہ تسلیم پر آگاہی دیتے ہوں۔آگے عام ہے کہ خواہ حقیقت میں بھی اس کے دل میں بھی ایسی کچی اور حقیقی تسلیم ہو جس کے جوش سے یہ قول وفعل صادر ہوتے ہوں۔جیسا کہ اس کے قول و فعل سے ظاہر ہوتا ہے یا کہ حقیقت میں ایسی تسلیم نہ ہو۔محض ظاہری نظر اور عرف پر اس کے قول وفعل سے تسلیم ظاہر ہوتی ہو۔پس اگر اسلام اور عرف کا لحاظ کیا جائے تب تو حقیقی تسلیم اس میں داخل نہیں جو کہ ایمان کے لئے ضروری ہے۔اور اگر اس بات کا لحاظ کیا جائے کہ معتبر اور مفید اور حقیقی اور واقعی اسلام وہی ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ حقیقی تسلیم بھی ہو تو تب ایسے اسلام میں حقیقی تسلیم ضرور ہی داخل ہے۔پس جنہوں نے اسلام کے نفس مفہوم کا لحاظ کیا ہے۔جس میں تسلیم حقیقی داخل نہیں انہوں نے تو کہہ دیا کہ ایمان اور چیز ہے کہ جس میں اعتقاد عمل ، خلق داخل ہیں۔اور اسلام اور چیز ہے جس میں فقط قول اور بعض اعمال داخل ہیں جو کہ تسلیم پر دلالت کرتے ہوں اور حقیقی تسلیم اس کی جزو نہیں ہے۔اور جنہوں نے اس طور پر خیال کیا کہ اگر چہ اسلام کا مفہوم عام ہے اور ایسی تسلیم کا ہونا نہ ہونا دونوں اس میں مساوی ہیں لیکن چونکہ مفید اور معتبر وہی اسلام ہے جس میں حقیقی تسلیم یعنی سچا اعتقاد بھی ہو لہذا انہوں نے کہہ دیا کہ ایمان اور اسلام ایک ہی شے ہیں۔کیونکہ جس طرح ایمان میں اعتقاد اور اعمال و اخلاق داخل ہیں اسی طرح اسلام میں بھی یہ تینوں داخل ہیں۔اور ان دونوں مذہبوں میں جمع کا جو طریق ہم نے بیان کیا ہے۔یہ از خود تو پوشیدہ نہیں ہے بلکہ یہ قرآن واحادیث صحیحہ سے نکالا ہوا ہے۔اور ہم یقین کرتے ہیں کہ جو شخص ان آیات و احادیث پر غور و تدبر کی نگاہ کرے گا۔ضرور اس کو یقین ہو جائے گا کہ یہ طریق بالکل حق اور واقعی ہے۔مرکز تقومی کون سا ہے دل یاد ماغ؟ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا - ( پارہ اول) کی تفسیر میں آپ تحریر کرتے ہیں۔ناظرین کو یاد ہوگا کہ میں نے ایک محل پر وعدہ کیا تھا کہ جو نزاع دل اور دماغ کے مرکز قوی ہونے میں ہے اس کا فیصلہ آئندہ پیش کروں گا تو چونکہ یہاں پر قلوب کا ذکر آیا ہے۔بلکہ قلوب ہی کو نفاق کا مرکز گردانا گیا ہے۔لہذا میں مختصر طو پر یہاں بیان کر دیتا ہوں۔مقند میں فلاسفروں کا اعتقاد اور آج کل کی نئی تحقیق کا نتیجہ یہ ہے کہ قومی کا مرکز دماغ ہے اور کل انبیاء اور صوفیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قومی کا مرکز قلب ہے۔اس گروہ کے