اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 620 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 620

۶۲۶ -۲- الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ۔(پارہ اول) کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ایمان کم و بیش ہوتا ہے یا نہیں ایمان پر بڑی بڑی بحثیں علماء کے درمیان واقع ہوئی ہیں منجملہ بحثوں کے ایک بحث یہ ہے کہ ایمان کم و بیش ہوتا ہے یا نہیں۔اہل حدیث اور شوافع اس طرف گئے ہیں کہ کم و بیش ہوتا ہے۔اور احناف اس طرف گئے ہیں کہ کم و بیش نہیں ہوتا۔اور فی الحقیقت اس بحث کی بناء اس امر پر ہے کہ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ ایمان میں داخل اور اس کی جزو ہیں یا خارج ہیں جنہوں نے ان کو جز و قرار دیا ہے ان کے نزدیک ایمان کم و بیش ہوگا۔کیونکہ جس قدر اعمال و اخلاق میں کمی ہوگی اسی قدر ایمان کے اجزاء کی کمی ہوگی اور جس قد را جزاء میں کمی ہوگی اسی قدر ایمان ناقص اور کم ہوگا۔اور جس قدر اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ زائد ہوں گے تو ایمان کے اجزاء زائد ہوں گے اور۔۔۔۔۔اسی قدر ایمان بھی زائد ہوگا۔نزاع لفظی تو اب ساری بحث کا دار ومدار اس پر آ گیا کہ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ ایمان میں داخل ہیں یا نہیں۔اس پر فریقین نے بڑا بڑا از وردیا ہے۔میں جب فلسفہ پڑھتا تھا اور اس میں بار بار یہ فقرہ پڑھتا تھا کہ حقین کے درمیان نزاع حقیقی نہیں ہوتا بلکہ لفظی ہی ہوتا ہے تو یہ بات میری سمجھ میں نہ آتی تھی۔کیونکہ جب لفظی نزاع محققین نزاع لفظی اس کو کہتے ہیں کہ حقیقت میں ہر ایک فریق دوسرے کی بات کا منکر نہ ہولیکن بظاہر ہر ایک کی بات دوسرے کے خلاف ہو اور یہ اسی طرح ہوتا ہے کہ چونکہ ایک اور معنوں کے لحاظ سے بات کرتا ہے اور دوسرا دوسرے معنوں کی رو سے۔لہذا حقیقت میں ان میں کچھ اختلاف نہیں ہوتا۔مثلاً ایک شہر کے دونوں طرف نہریں ہوں ایک شہر سے ایک میل کے پاس ہو اور ایک دو میل پر تو زید کہے کہ نہر میل کے فاصلہ پر ہے اور عمر کہے کہ دو میل پر ہے تو یہ دونوں قول اگر چہ بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن حقیقت میں کوئی خلاف نہیں کیونکہ زید نے اور نہر کے خیال سے کہا ہے اور عمر نے اور نہر کے لحاظ سے پس اگر زید سے دوسری نہر کی نسبت دریافت ہو تو وہ بھی وہی کہے گا جو کہ عمر نے کہا تھا اور اسی طرح عمر سے دوسری کے نسبت سوال ہو تو وہ بھی وہی کہے گا جو کہ زید نے کہا تھا۔پس ایسے نزاع کو نزاع لفظی کہتے ہیں یعنی اگر چہ بظا ہر لفظوں میں خلاف ہے لیکن حقیقت میں کوئی خلاف نہیں۔