اصحاب احمد (جلد 5) — Page 614
۶۲۰ عرف میں اس کو بھی مسافر کہہ دیتے ہیں اور اس کو علمی اصطلاح میں مجاز باعتبار مایول کہتے ہیں یعنی جس لحاظ سے اس پر وہ لفظ بولا گیا ہے وہ ابھی تو اس میں موجود نہیں ہے لیکن آئندہ ہونے والا ہے جیسا مثلاً حدیث میں آتا ہے من قتل قتيلا فله سلیه ۸۵ ( جو کسی مقتول کو قتل کرے تو اس کے لئے اس کا سب اسباب ہے ) پس اس میں قتیل آئندہ کے لحاظ سے بولا گیا ہے ورنہ قتیل یعنی مقتول کے قتل کے کیا معنے تو جب متقی کے یہ معنے ہوئے تو اب اعتراض رفع ہو گیا۔پہلے جواب کی عدم صحت لیکن غور سے دیکھا جائے تو باوجود اس قدر تکلیف کے اس جواب میں دو نقص تا حال باقی ہیں۔اول یہ کہ متقی کے جو معنے اس جواب میں لئے گئے ہیں وہ اس تفسیر کے بالکل خلاف ہیں جو کہ یہاں پر خداوند کریم نے متقی کی بیان کی ہے۔اور وہ یہ ہے الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ الخ۔کیونکہ جواب میں متقی کے جو معنے لئے گئے ہیں۔ان میں ایمان بالغیب، اقامت صلوۃ ، انفاق وغیرہ کی نفی ہے۔اور خدا کی بیان کردہ اس تفسیر میں امور کا اثبات ہے اور ایک شئی کی نفی اور اثبات دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔پس خدا کی بیان کردہ تفسیر ان معنوں کی تردید کرتی ہے جو کہ جواب میں لئے گئے ہیں۔اور دوم یہ کہ اگر چہ یہ معنے لینے سے تحصیل حاصل کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے۔کیونکہ ان معنوں کے لحاظ سے متقی میں وہ امور حاصل نہیں ہیں کہ جن کی ہدایت یہ کتاب کرتی ہے لیکن دعوت کی تخصیص کا سوال اب تک باقی ہے۔اس لئے کہ جو لوگ ان معنوں کے لحاظ سے متقی نہیں ان کے لئے یہ کتاب ہدایت نہ ہوگی۔اور یہی تخصیص ہے اور پہلے معنوں پر بھی ایک ایک اعتراض یہی تھا۔پس یہ جواب پر تکلف ہونے کے نہ صحیح ہے اور نہ فی الحقیقت کافی ہے۔مفسرین کا دوسرا جواب اور دوسرے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں اس بارہ میں بہت مقاموں پر ذکر آیا ہے چنانچہ سورہ لقمان میں آیا ہے هُدًى وَرَحْمَةً لِلْمُحْسِنِي۔۔۔۔اور سورہ نحل میں ہے۔هُدًى وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ( قرآن مجید مومن لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے ) اور سورہ بر۔۔۔(میں) ہے هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتِ منَ الهدى۔۔۔۔پس اگر بعض مقام پر نظر کرنے سے تخصیص کا وہم گزرسکتا ہے تو هُدًى لِلنَّاسِ سے صاف صاف تعمیم ثابت ہے۔پھر خاص کر جبکہ ایسی آیات کریمہ پھر بھی نظر کی جائے جو آنحضرت کی دعوت اور بعثت کے عموم پر قطعی دلیل ہیں جیسے يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم جَمِيعًا ۶ تو۔۔۔اب عموم