اصحاب احمد (جلد 5) — Page 602
۶۰۸ لا سب فرشتوں کو آدم کے سجدہ کا حکم دیتا ہے فَسَجَدَ الْمَلَئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَ هُ إِلَّا إِبْلِيسَ - ۶ کے یہاں پر فرشتوں نے جو کہ خدا تعالیٰ کے ہر وقت فرمانبردار ہیں۔سجدہ کے حکم پر آدم کے لئے سجدہ کیا۔مگر ایک شیطان طبع نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔جس کی اس نے اپنی طرف سے وجہ بھی بنالی۔یہاں پر بھی ایسا ہی نمونہ دکھایا گیا ہے۔حالانکہ خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے خلفاء راشدین وصحابہ کرام و تابعین و جملہ مسلمان و حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے خلفاء وصحابہ کرام و جملہ احمدیان آیات سجدہ پر سجدہ کرتے ہیں۔سوائے سیکرٹری مال کے۔اور خدا اور رسول کے حکم کے خلاف جو تو جیہ بیان کی۔بعینہ اسی طرح کی توجیہ ابلیس نے آدم کے سامنے پیش کر کے حضرت آدم کو غلطی میں ڈال کر جہاں خدا نے رکھا تھا اس دنیوی جنت سے نکلوا دیا۔خدا نے ان کو حکم دیا تھا کہ لَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ مَگر سورہ اعراف میں خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ شیطان نے آدم کو اپنے اخلاص اور خیر خواہ ہونے کا اعتبار د لا کر کہا مَا نَهَكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَلِدِينَ۔( کہ نہیں روکا تم دونوں کو تمہارے رب نے سوائے اس کے کہ تم دونوں طاقتور یا بادشاہ یا ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے ) مگر پھر آدم صاحب نے خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جنت سے نکالے گئے۔پس یہ شخص بھی اسی طرح کہتا ہے کہ یہ تو فرما نبرداری کے لئے حکم دیا گیا ہے اور ہم تو مجسم ہی فرمانبردار ہیں۔یہ کہہ کر سجدہ سے انکاری ہے۔خدا تعالیٰ تو حکم دیتا ہے فاسجدوا کہ سجدہ کرو مگر یہ شخص غلط تو جیہہ کر کے شیطنت میں پڑ کر دوسروں کو بھی اس میں ڈالتا ہے۔اور پھر سب سے زیادہ اس سے تعجب ہے کہ ایک مقتدر شخص مذہبی جماعت کا عہدیدار ہوتے ہوئے ایسی جرات کرتا ہے اور دوسروں کو بھی مذہب کے خلاف چلانا چاہتا ہے۔-۴۵ صف پر کپڑا وغیرہ بچھا کر نماز پڑھنا - یہ امام صاحب اور امیر صاحب کی شریعت میں ہوگا کہ کپڑا وغیرہ بچھا کر نماز پڑھنی جائز نہیں ہے جماعت کے اکثر افراد میں یہ نہایت خطرناک عیب پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مفتی سمجھ کرفتو کی دینا شروع کر دیتے ہیں بلکہ جرأت کر کے اس پر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔اور پھر مرکز کے عمل کو بھی نہیں دیکھتے۔اور اپنی شریعت پر چلانے کا اصرار کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو خدا سے ڈرنا چاہئے۔اور جماعت میں تفرقہ ڈالنے کی بجائے اتحاد پیدا کرنا چاہئے جو کہ خدا تعالیٰ کا حقیقی حکم ہے کہ لا تفرقوا کہ آپس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔اس پر عمل پیرا ہونا چاہئے خصوصاً مرکز کے عمل کو اپنے لئے اسوہ بنانا چاہئے۔۷۸