اصحاب احمد (جلد 5) — Page 592
۵۹۸ مگر آپ کی تحریر میں جو خلع کی صورت لکھی ہوئی ہے۔اس میں کسی ایسے مال کا ذکر نہیں۔جو عورت کا ہو (خواہ خاوند نے اس کو دے دیا ہو۔یا کسی اور طریق سے اس کو ملا ہو ) اور ضلع میں اس عورت نے وہ اپنا مال خاوند کو دیا ہو یا خاوند نے اس مال پر خلع کیا ہو۔رہا زیور کا واپس دینا تو وہ عورت کا مال معلوم نہیں ہوتا ہے کیونکہ دوسری دفعہ جو طلاق دی ہے اس میں بھی اس زیور کی واپسی کا ذکر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے اپنا مال سمجھا ہوا ہے۔جو عورت کے پاس امانت ہے۔اور دونوں صورتوں میں امانت واپس لی ہے تو اگر ایسا ہے کہ خلع کیا ہے مگر اس میں عورت سے کوئی مال لینا نہیں مقرر کیا تو پھر بھی یہ طلاق بائن ہے۔کتب فقہ میں لکھا ہے۔اگر مال کا ذکر نہ ہو اور خاوند خلع کرے تو اس کے ساتھ طلاق بائن ہوتی ہے۔بہر حال پہلی تحریر میں اگر خلع کیا ہے تو وہ نسخ نکاح یا طلاق بائن ہے۔اور دونوں صورتوں میں رجوع نہیں ہوسکتا۔بلکہ نئے نکاح کی ضرورت ہے جو نہیں ہوا۔اس لئے دوبارہ طلاق یا اس سے رجوع کچھ نہیں۔اور یہ عذر کہ عورت نے خلع قبول نہیں کیا کیونکہ اس نے فور اوہ تحریر جلادی) کچھ فائدہ نہیں دیتا۔کیونکہ خلع سے فسخ نکاح یا طلاق بائن واقع ہونے کے لئے عورت کا قبول کرنا کوئی ضروری نہیں۔اگر وہ نہ بھی قبول کرے تو میں نکاح فسخ ہو جائے گا۔ہاں جس مال سے خلع ہو گا اس صورت میں اس کا دینا عورت پر لازم نہیں آئے گا۔اور اگر پہلی تحریر میں بھی طلاق ہی ہوتی تو پھر یہ دونوں رجعی طلاقیں ہوتیں اور ہر ایک کے بعد عدت کے اندر رجوع کرنا صحیح اور درست ہوتا۔تب بھی بجائے تین کے ایک ہی رجعی طلاق ہوتی کیونکہ جو طلاقیں ایک وقت میں دی جائیں وہ از روئے حدیث ایک ہی رجعی طلاق ہوتی ہیں نہ تین۔-۲- کا جواب یہ ہے کہ جو زیور یا چیز عورت کو دی جائے خواہ نکاح کے وقت یا بعد وہ عورت کی ملک ہو جاتی ہے۔ہاں اگر دیتے وقت تصریح کر دی جائے کہ یہ مہر نہیں ہے یہ کہ یہ میری چیز ہے تم رکھو یا استعمال کرو تو پھر تصریح کے ماتحت ہوگا یا کسی قوم میں کوئی خاص رواج ایسا ہو کہ جب بھی کوئی زیور یا کوئی اور چیز دی جائے تو وہ ضرور مہر میں ہی ہو یا مردہی کی ہو۔تو پھر رواج کے مطابق ہوگا۔اور اگر دونوں نہ ہوں تو پھر وہ یقیناً عورت کی ملک ہے۔اور مہر اس کے علاوہ دینا لازم ہے۔(۳۳-۱۰-۱۴) ۲۶- کیا مکان کی لاٹری جائز ہے؟ استفتاء۔( از نظارت تعلیم وتربیت) کیا مکان کی لاٹری ڈالنی جائز ہے؟ فتوی: جس طرح باقی لاٹریاں نا جائز ہیں اسی طرح مکان کی لاٹری بھی ناجائز اور حرام ہے۔