اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 581 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 581

۵۸۷ ۱۰- محکمہ آبکاری کی ملازمت استفتاء - آبکاری کے محکمہ کی ملازمت کرنا یا کارنیوال کمپنی کی ملازمت کرنا کیا شرعاً جائز ہیں۔جبکہ اس کی کمائی سے ملازموں کی تنخواہیں دی جاتی ہیں۔فتوئی شراب کا پینا اور فروخت کرنا شرعاً ممنوع ہیں لیکن ان میں ملازمت کرنی ممنوع نہیں جائز ہے اور نا جائز ذرائع سے جو مال حاصل کیا جاتا ہے۔وہ ناجائز طریق سے حاصل کرنے والے کے لئے حرام یا ممنوع ہوتا ہے مگر اس مال کی ذات میں کوئی حرمت وغیرہ داخل نہیں ہو جاتی کہ وہ اور وں کے لئے بھی حرام یا ممنوع ہو جائے۔بلکہ دوسروں کے لئے اس کا استعمال جائز طریق پر لینا یا استعمال کرنا ممنوع نہیں بلکہ جائز ہے۔(۳۲-۰۸-۰۲) - مجزوم سے ضلع استفتاء۔ایک شخص کا نکاح اس کے چا کی لڑکی سے قریب ۱۱/۱۲ سال سے ہوا ہے۔وہ چند دفعہ عورت کے پاس بھی گیا لیکن عورت کی حاجت کو کامل طور پر پورا نہیں کر سکا۔اور کچھ عرصہ سے مرض جذام میں بھی مبتلا ہو چکا ہے۔عورت بھی اس سے متنفر ہے۔اور اب وہ لا علاج ہے اور بیماری کا علاج بھی نہیں کروا تا۔اورلڑ کی کو طلاق بھی نہیں دیتا۔اور اس کا خیال ہے کہ اس کی شادی اپنے بھائی سے کر دے لڑکی ماں باپ کے گھر ہے۔فتویٰ : قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا۔۔۔فِيْمَا افْتَدَتْ بِهِ - اگر خاوند اور بیوی خدا کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں۔اور جو ان کے حقوق ہیں ان کو ادا نہ کرسکیں تو پھر آپس میں جدا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔اور عورت مرد کو اس کا مال مہر وغیرہ دے کر خلع کروا سکتی ہے۔اور اس سے علیحدہ ہوسکتی ہے۔چنانچہ ثابت بن قیس کی بیوی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خلع کی درخواست کی تھی۔اور وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام نہ لایا تھا۔اس پر رسول مقبول نے فرمایا کہ اس کا لیا ہوا مال واپس کر دو اور خلع کر والو۔پس اس سے ظاہر ہے کہ ضلع عند الحاجب ہو سکتا ہے۔اور شریعت اس کو جائز قرار دیتی ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک عورت نے اپنے پہلے خاوند سے طلاق لے کر عبد الرحمن بن الزبیر سے شادی کر لی تھی۔آنحضرت کے پاس آئی تھی اور کہا کہ میں نے عبد الرحمن سے شادی کی۔مگر وہ نامرد ہے اور میری حاجت پوری نہیں کر سکتا تو رسول مقبول نے فرمایا کہ مباشرت کے بعد ضلع ہو سکتا ہے۔یہ حدیث متفق علیہ ہے۔پس جب خاوند کو کوئی لاعلاج اور مہلک مرض لاحق ہو یا وہ نامرد ہو یا عورت مجبوری پیش کرے تو ایسے