اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 573 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 573

۵۷۹ فتاویٰ حضرت مولوی صاحب ذیل میں آپ کے پچپن فتاوی درج کئے جاتے ہیں۔مقصود یہ نہیں کہ احباب کو اشتہار کی سہولت بہم پہنچائی جائے۔وہ تو دارالافتاء سے فتویٰ حاصل کرنے یا نقل حاصل کرنے سے یا ان کی طرف سے فتاویٰ شائع کرنے پر میسر آسکتی ہے۔یہاں صرف حضرت مولوی صاحب کا تجر علم ظاہر کر نا مطلوب ہے۔ا مسح کے متعلق ذیل کا استفتاء حضرت قاضی امیر حسین صاحب کی طرف سے ہے۔لکھتے ہیں۔بخدمت شریف جناب مفتی سلسلہ احمدیہ! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔مہربانی کر کے فتویٰ عنایت کریں کہ بیمار آدمی دائم المریض جو ہمیشہ بیمار ہے وہ وضو کے واسطے کیا کرے آیا اس کے واسطے تیم جائز ہے یا نہیں۔میں نے اس مسئلہ کی بہت پڑتال کی ہے لیکن بہر مقصود نہیں پہنچا حضور اس کا توجہ سے جواب دیں۔والسلام جواب ( قاضی) امیرحسین از قادیان ۳۰-۷-۲۶ از حضرت مولوی سید محمد سرور شاه صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ پرنسپل جامعہ احمد یہ قادیان۔مکرم محترم جناب قاضی صاحب رضی اللہ عنکم وارضکم۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کانت۔جناب نے مریض کے تیم کے متعلق استفتاء فرمایا ہے۔سو اس کے متعلق عرض ہے۔مریض تیم کر سکتا۔اور اس آیت کریمہ میں کہ وَاِنْ كُنتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ اَوْجَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ أَوْلَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَيَتَمَمُّوا ۱۲۔جو یہ اشکال پیش آتا ہے ( کہ بظاہر عدم وجدان مآء کی قید سب کو معلوم ہوتی ہے اور اس صورت میں جس طرح مسافر کا تیم عدم وجدان ماء کے ساتھ مشروط ہے اسی طرح مریض کا تیتیم بھی عدم وجدان ماء کے ساتھ مشروط ہوگا اور بدوں اس شرط کے محض مریض ہونے