اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 565 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 565

۵۷۱ آخر اس کی اطلاع حضور کو پہنچی اور حضور مولوی محمد علی صاحب والی کوٹھی میں تشریف لائے۔بات چیت شروع ہوئی تو مولوی محمد علی صاحب نے کہا کہ ہم اس لئے یہاں پر آئے ہیں کہ حضور سے دعائیں اور جب ہماری شکایتیں حضور کے پاس جاتی ہیں تو آخر آپ بھی انسان ہیں کسی وقت ان سے متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔تو اس پر حضور نے فرمایا کہ میری حالت یہ ہے کہ ایک ہی خیال ہے جو کہ ہر وقت مجھے اپنی طرف متوجہ رکھتا ہے۔اور دوسری طرف مجھے متوجہ ہونے ہی نہیں دیتا۔میں باہر آپ لوگوں میں بیٹھتا ہوں آپ سمجھتے ہیں یہ ہم میں بیٹھا ہوا اور ہماری باتیں سنتا ہے۔مگر میرا ذہن اسی ایک خیال کی طرف لگا ہوا ہوتا ہے۔گھر میں جاتا ہوں تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ہے مگر میرا دھیان صرف ایک ہی بات کی طرف ہوتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے دعوئی کے دلائل بھی دئے اور لوگوں کے اعتراضوں کے جواب بھی دئے اور خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے زبردست نشان بھی دکھائے مگر یہ کچھ بھی نہیں۔اگر اصل کامیابی نہ ہو اور وہ یہ ہے کہ ہم ایک عمدہ جماعت تیار کر لیں۔جو ہمارے بعد عمدگی کے ساتھ اس کام کی تعمیل کر سکے کہ جس کو ہم نے شروع کیا ہے لیکن جب میں جماعت پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ شاید خدا نے میرے لئے بھی پہلے مسیح اور موسئے اور دیگر بہت سے نبیوں کی طرح یہی مقدر کیا ہے کہ میں بھی ان کی طرح ناکامی کا منہ دیکھوں اور خیال آتا ہے کہ شاید خدا نے صرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہی یہ مقدر کیا تھا کہ وہ اپنی سب مرادوں کو پورا ہوا دیکھ کراپنے خدا کی طرف روانہ ہوں۔حضرت موسے کو دیکھو کہ قوم کو یہ کہ کر مصر سے روانہ ہوئے کہ تم کو ارض مقدس میں داخل کروں گا۔مگر اسی قوم کے سامنے ارض مقدسہ کے راستہ ہی میں فوت ہو گئے۔حضرت عیسی بقیہ حاشیہ: - ۴۔مولوی صاحب کے بیان سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ گویا گورداسپور والے سرٹیفکیٹ کی رو سے حاصل شدہ ایک ماہ کے وقفہ میں لالہ چند ولال کا تبادلہ ہوگیا۔اس سہو کی بھی تصحیح ہو جاتی ہے۔نوٹ:حضرت مولوی صاحب کی روایت کی تکمیل بھائی مددخاں صاحب کی روایت مندرجہ الحکم مورخه ۱۴ تا ۲۸ مارچ ۱۹۳۸ء (صفحہ۶،۵) سے ہوتی ہے۔گورداسپور سے وہ بھی دو دیگر افراد کے ہمراہ قادیان یہ اطلاع دینے کے لئے آئے تھے۔حضور نے بات سن کر فرمایا کہ میں بیمار تو ہوں اور سرٹیفکیٹ لینے کا ارادہ تھا لیکن اب میں گورداسپور جا کر ہی سرٹیفکیٹ لوں گا۔بھائی مددخاں صاحب اپنے ہمراہ شیخ حامد علی صاحب اور غالبا کے لفظ کے ساتھ عبدالمجید صاحب برادر منشی عبد الغنی صاحب اوجلوی جانے کا ذکر کرتے ہیں اور حضرت مولوی صاحب کی روایت میں بھی تین افراد کے قادیان بھجوانے کا ذکر ہے ایک تو شیخ صاحب ہی دوسرے عبدالرحیم صاحب باور چی اور تیسرے ایک اور صاحب جن کا نام آپ نے بیان نہیں کیا۔