اصحاب احمد (جلد 5) — Page 563
۵۶۹ -۲۶ حضور کیسی جماعت تیار کرنا چاہتے تھے حضرت مولوی صاحب بیان فرماتے تھے۔مجھے بخوبی یاد ہے کہ جب مسجد مبارک کی تعمیر کا بل مولوی محمد علی صاحب نے روک دیا اور حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم کو اس سے تکلیف ہوئی تو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بقیہ حاشیہ: - " مقدمہ ڈپٹی کمشنر صاحب کی عدالت سے واپس چندو لال کی عدالت میں ۱۶ فروری کو پیش ہوا۔اعلیٰ حضرت کی طبیعت اس روز سخت ناساز ہو گئی۔اور آپ سول سرجن صاحب بہادر گورداسپور کے ہی سرٹیفکیٹ کی وجہ سے اس روز واپس چلے آئے۔۱۶ / فروری کو جگر ۲۰ منٹ گزرے مقدمہ عدالت میں پیش ہوا عدالت میں جانے سے پہلے گورداسپور کا ایٹما سفیر (ATMOSPHERE) ہماری خطرناک مخالفت کی آوازوں سے گونج رہا تھا اور مقدمات کے متعلق عجیب عجیب افواہیں اڑائی جارہی تھیں۔بہت سی ردو کد کے بعد مجسٹریٹ نے ایک ہفتہ کی مزید مہلت چیف کورٹ سے حکم لانے کے واسطے دی اور ۲۳ فروری ۱۹۰۴ء مقرر کی۔‘ ۵۲ ۲۲ فروری کو چیف کورٹ میں بھی درخواست نامنظور ہوئی اور ۲۳ اور ۲۴ فروری کو حضور کے وکلاء بعدالت چندو لال پیش ہوئے۔۵۳ بدر ۰۴-۳- اصفحه ۵اک امیں مزید مرقوم ہے کہ حضرت اقدس بوجہ علالت طبع بر سرٹیفکیٹ سول سرجن ضلع گورداسپور تشریف نہ لے گئے۔پھر ۸ مارچ کو پیشی میں خواجہ کمال الدین صاحب حاضر ہوئے۔۱۴ مارچ کو پیشی تھی۔حضور کی طبیعت ناساز تھی۔۱۳ مارچ کو گورداسپور کے سول سرجن قادیان آئے اور انہوں نے حضور کو چھ ہفتہ تک سفر کرنے کے قابل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا۔( مقدمہ ) ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ پر ۱۵ مارچ ۱۹۰۴ء کے لئے ملتوی ہوا کہ ڈاکٹر صاحب آ کر شہادت دیں کہ واقعی اعلیٰ حضرت بیمار ہیں یا نہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب وکیل نے عدالت کو توجہ دلائی کہ یہ شہادت ایکٹ شہادت کے ماتحت غیر متعلق ہے۔اور اس کے علاوہ پیر مہر علی شاہ کے متعلق جب سرٹیفکیٹ پیش ہوتے رہے ہیں تو عدالت نے کبھی یہ تجویز نہیں کیا کہ ڈاکٹر خود آ کر شہادت حلفی دے۔مگر مجسٹریٹ صاحب نے اپنا فیصلہ بحال رکھا اور ۱۵ / مارچ ۱۹۰۴ء کو ڈاکٹر صاحب کی شہادت لی۔جنہوں نے اپنے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کی۔آخر عدالت نے اس مقدمہ کو ۱۰ اپریل پر ملتوی کیا“۔۵۴