اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 538 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 538

۵۴۴ کھڑارکھتے ہیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس کے اوپر بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھ لیتے ہیں۔اور بیٹھ کر اللهُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْفَعُنِي وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِي۔۔۔۔۔يا اللهُمَّ اغْفِرْ لِی۔تین دفعہ پڑھتے ہیں۔اس کے علاوہ اپنی زبان میں یا عربی زبان میں جو دعا چاہتے ہیں دعا مانگتے ہیں۔اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے پہلے سجدہ کی مانند سجدہ کرتے ہیں۔اور پہلے سجدہ کی مانند اس میں وہی کچھ پڑھتے ہیں اور دوسرے سجدہ میں بھی دعائیں مانگتے ہیں اور پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور سوائے پہلی تکبیر اور سُبحَانَکَ اللہ اور اَعُوذُ بِاللہ کے بعینہ پہلی رکعت کی مانند دوسری رکعت پڑھتے ہیں۔اور دونوں سجدوں کے بعد اس طرح بیٹھ جاتے ہیں جیسا کہ دوسجدوں کے درمیان بیٹھا کرتے ہیں۔ہاں اس قدر فرق ہوتا ہے کہ پہلے سجدہ کے بعد جب بیٹھتے ہیں تو دونوں ہاتھوں کو دونوں گھٹنوں پر اس طور پر رکھتے ہیں کہ دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں۔اور دونوں کی انگلیاں قبلہ کی طرف سیدھی ہوتی ہیں۔اور دوسری رکعت کے دونوں سجدوں کے بعد جب اٹھتے ہیں تو اپنے بائیں ہاتھ کو تو ویسا ہی رکھتے ہیں اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیوں کو ہتھیلی سے ملالیتے ہیں اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ باندھ لیتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان کی انگلی کو سیدھار کھتے ہیں اور پھر التحیات پڑھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔اَلتَّحِيَّاتُ للهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتِهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِيْنَ اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله ) اور یہ کہتے ہوئے اس انگلی کو اٹھا کر اشارہ کرتے ہیں اور پھر ویسی ہی رکھ دیتے ہیں جیسی کہ پہلے رکھی ہوئی تھی ) وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔۔۔پس اگر تین چار رکعتیں پڑھنی ہوتی ہیں تو اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور پھر باقی رکعتوں کو ویسا ہی پڑھتے ہیں جیسا کہ دوسری رکعت کو پڑھا تھا اور پھر ان کوختم کر کے اخیر میں پھر اسی طریق سے یا داہنے پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں کو داہنے کی طرف نکال کر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہی التَّحِيَّات پڑھتے ہیں۔اور اگر دو ہی رکعت والی نماز ہوئی تو یہی آخری بیٹھنا ہوتا ہے اور آخری بیٹھنے میں التحیات مذکورہ کے بعد پڑھتے ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى ابْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔۔۔۔اس کے بعد پھر کوئی دعا مقرر نہیں بلکہ جو چاہتے ہیں وہ دعا مانگتے ہیں اور ضرور مانگتے ہیں اس کے بعد داہنے طرف منہ پھیر کر کہتے ہیں السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ الله۔۔اور پھر بائیں طرف بھی اسی طرح منہ پھیر کر کہتے ہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ وَرَحْمَةُ الله -