اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 508 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 508

۵۱۳ پچاس منٹ میں سارے قرآن شریف کی تفسیر کب مکمل ہو سکتی تھی لیکن آپ کا عقد ہمت اور عزم ایسا تھا کہ آپ تفسیر اور اس سے متعلقہ مضامین پڑھاتے رہتے تھے لیکن باوجود بسیار کوشش اور جدو جہد کے آپ ہمیں دو سال کے عرصہ میں سورہ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کے صرف چھپیں رکوع یعنی دوسو دس آیتوں کی تفسیر ہی پڑھا سکے، ہمارا دل بھی چاہتا تھا کہ آپ ہمیں سارے قرآن شریف کی تفسیر پڑھا دیں ( بلکہ جب میں بلاد عربیہ میں تھا تو اس وقت بھی میری یہ تمنا تھی کہ واپس جانے پر آپ سے پھر تفسیر پڑھوں گا مگر مرضی کمولی از ہمہ اولی ) اور آپ کی بھی یہی خواہش تھی مگر سمندر کوزہ میں کیسے بند ہوسکتا تھا ؟ اور غیر محدود حقائق و معارف اپنے اندر رکھنے والی کتاب دو سال کی (جن میں دس ماہ کی عام و خاص تعطیلات ہوتی ہیں ) روزانہ دوگھنٹیوں میں کس طرح ختم ہو سکتی ہے؟ اس لئے آپ نے ہمیں ساتھ ساتھ بعض ایسے اصول و پر حکمت قواعد بتلائے جن کی مدد سے اگر اللہ تعالیٰ کی عنایت بھی شامل حال ہو تو سارے قرآن شریف کی تفسیر کی جاسکتی ہے۔مثلاً قرآن شریف میں حضرت مسیح عیسی ابن مریم کے متعلق اللہ تعالى ك تَبْرِيُّ الْأَكْمَهَ وَالْاَبْرَسَ فرمانا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کے متعلق فَهُوَ يَشْفِينِ فرمانا نیز اللہ تعالیٰ کا شہد کے متعلق فِيهِ شِفَاء لِلنَّاس اور قرآن مجید کے متعلق شِفَاء لِلْمُؤمِنِین اور شِفَآءٌ لِمَا فِي الصُّدُور فرمانا اور حضرت مسیح کے ذکر میں کسی جگہ بھی شفاء کا ذکر نہ کرنا بلکہ ابراء ( بری کرنا ، الزام سے نجات دینا ) فرمانا اور توریت کا اندھوں اور مبر وصوں کو مجرم قرار دینا اور ان سے چھوت چھات کرنے کا حکم دینا ہر جگہ استعمال کرنا بتلا رہا ہے کہ ابراء اور شفاء دو علیحدہ علیحدہ لفظ ہیں اور حضرت مسیح ابراء کرتے تھے نہ کہ اندھوں کو آنکھیں دیتے پھرتے تھے وغیرہ۔اثناء تعلیم میں تو بحر قلزم کی دلدلیں اور مد و جز ریا دریائے نیل کا ہی دوٹکڑے ہو جانا ، من و سلوی کا نزول ، وَاذْقَتَلْتُمُ نَفْسًا فَادَّارَأَتُمُ فِيهَا ، مقطعات و حکمات اور متشابہات پر ہی کئی کئی دن صرف کرنے لا بدی تھے۔پھر اس کے ساتھ تجوید و ترتیل القرآن کے قواعد بھی آجاتے تھے ( کیونکہ تجوید القرآن بھی تفسیر القرآن کے ساتھ ہی متعلق تھا) اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ ”میاں اکثر لوگوں کو تو سورۃ فاتحہ بھی پڑھنی نہیں آتی۔وہ پڑھتے ہیں۔بِسمِ الا۔هِـرَّحُمَا نِرَّحِیم حالانکہ یہ تینوں لفظ عربی کے لحاظ سے غلط ہیں۔نہ بِسمِلا عربی کا لفظ ہے نہ هِرَّ حُمَاعربی کا لفظ ہے اور نہ نِرَّحِیم۔پھر پڑھتے ہیں۔اھدِنَا الصِّرَاطَلُ مُسْتَقِيمَ حالانکہ صِرَاطَلُ عربی کا لفظ نہیں۔الصِّرَاط علیحدہ لفظ ہے اور المُسْتَقِيمَ علیحدہ لفظ ہے۔اور دونوں لفظوں کو اکٹھا ملانا چاہئے۔درمیان میں وقفہ نہیں ہونے دینا چاہئے تا غلط نہ ہوں۔اور خود بڑے اطمینان سے سورہ فاتحہ کی تلاوت فرما کر عامة الناس کی