اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 30 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 30

۳۰ رہے اور بالآ خر والد صاحب کے کہنے کے مطابق آپ مولوی سید احمد سکنہ حسن ابدال کو اپنا قائم مقام مقرر کرا کے چلے آئے۔یہ صاحب دو سال تک وہاں پڑھاتے رہے۔اس کے بعد آپ کے استاد مولوی خلیل احمد صاحب مدرس دوم دیو بند کو مقرر کر دیا گیا۔وطن آئے تو والد صاحب نے آپ سے قرآن مجید پڑھا۔آپ کا تجر علم آپ کے تجر علم کی جھلک زمانہ طالب علمی سے ہی نظر آتی تھی۔جب کہ ابھی آپ نے انتہائی کتب پر عبور بھی نہیں کیا تھا۔ان دنوں ہندوستان میں منطق و فلسفہ کے امام مولوی عبدالحق خیر آبادی تھے اور حضرت مولوی صاحب کے نزدیک آپ کے لاہور والے استاد کا علم مولوی عبدالحق صاحب سے بہت زیادہ تھا۔گو انہوں نے یہ فن معمولی لوگوں سے پڑھا تھا لیکن وہ ہمیشہ مطالعہ میں لگے رہتے تھے۔حتی کہ جو کتاب پڑھاتے تھے اس کا بھی رات کو مطالعہ کرتے تھے۔مدرسہ نعمانیہ میں اس وقت کتابیں بہت کم ہوتی تھیں اور دو دو تین تین آدمیوں میں کتاب مشترک ہوتی تھی اور استاد صاحب بھی کسی طالب علم سے کتاب لے کر مطالعہ کرتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت کو اس فن کے ساتھ خاص مناسبت ہونے کی وجہ سے استاد پر یہ اثر تھا کہ وہ کہتے کہ اس نے اول تو دو دفعہ یہ فن پڑھا ہوا ہے۔نہیں تو ایک دفعہ کے متعلق تو کوئی شبہ ہی نہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک ہی کتاب پر ہم باری باری مطالعہ کرتے ہیں اور یہ ہم سے تھوڑا وقت لیتا ہے لیکن سب سے زیادہ اس کی بات کے متعلق فیصلہ ہوتا ہے۔میں نے تین دفعہ ایسے مسئلہ میں جس میں میرا اور اس کا جھگڑا تھا مولوی عبدالحق خیر آبادی کو حکم بنایا تو اس نے اس کے مطابق فیصلہ دیا۔اگر اس نے پڑھی ہوئی نہیں تو ایسا کیوں ہے۔استاد صاحب نے حدیث مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی سے پڑھی ہوئی تھی اور ان کا خیال تھا کہ آپ حدیث بھی ان سے پڑھیں لیکن مذکورہ نقص کی وجہ سے آپ دینی علم ان سے پڑھنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔اس لئے دیوبند جانے کا ارادہ ہوا۔آپ کی اعلی علمی قابلیت اور مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپوری کی مدرسی مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور دیو بندی خیال کے مدارس میں سے پہلا مدرسہ ہے اسے ام المدارس کہتے ہیں۔یہ دیو بند سے قریباً چھ ماہ قبل جاری کیا گیا تھا اور اس کی اعلیٰ نگران کمیٹی بھی وہی مجلس شوری ہے جس کے ماتحت مدرسہ دیو بند ہے۔اس مجلس کے سامنے ایک وفد نے یہ معاملہ پیش کیا کہ مدرسہ مظاہر العلوم قریباً اجڑ چکا ہے۔اس وجہ سے کہ دوم مدرس حاجی احمد علی صاحب مراد آبادی نے جو منطق وفلسفہ پڑھاتے تھے مدرسہ سے