اصحاب احمد (جلد 5) — Page 506
۵۱۱ شرط نہیں۔کہنے لگے کیا آپ کامیاب ہو جائیں گے؟ میں نے کہا انشاء اللہ ! اس پر وہ ہنس پڑے۔اور ایک صاحب نے کہا ہمیں تو امید نہیں! میں نے جواب دیا۔وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ هُ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرای ۳۵ اس وقت بوجہ امتحان کا وقت ہو جانے کے ہال کے دروازے کھل گئے اور ہم اپنی اپنی جگہوں پر چلے گئے اور کوئی بات نہ ہوئی۔چند دن کے بعد امتحان ختم ہو گیا۔اور اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ان بیچاروں میں۔سوائے ایک کے اور کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا اور میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے کامیاب ہو گیا۔ہماری مولوی فاضل کلاس بہت بڑی کلاس تھی۔اس میں بائیں طالب علم تھے۔جن میں سے سولہ کامیاب ہو گئے۔اور اخویم مکرم ملک صلاح الدین صاحب ( مؤلف اصحاب احمد ) ہم میں اول آئے اور پھر انگریزی زبان کی طرف منتقل ہو گئے اور پھر ایم۔اے بن گئے۔جامعہ احمدیہ قادیان جس عمارت میں کھولا گیا تھا۔وہ ایک کو ٹھی تھی جس میں خلافت اولی کے ایام میں کسی زمانہ میں صالح اور نیک ارادہ رکھنے والے احمدی مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ قادیان رہا کرتے تھے۔اس کے تین چار پختہ کمروں کے علاوہ اس کے اردگرد قلعہ کی چاردیواری (فصیل) کی طرح ان کے نوکروں چاکروں اور جانوروں کے لئے کچی کوٹھڑیاں تھیں جو بوجہ مرور زمانہ دیمک وغیرہ کا شکار ہو کر خراب خستہ ہو چکی تھیں اور نہایت ہی برا منظر پیش کرتیں تھیں۔ان کو گرانے اور جگہ صاف کرنے کا کام ہمارے اور ہمارے دوستوں کے حصہ میں آیا۔اور جامعہ احمدیہ کی کچھ شکل وصورت نظر آنے لگی۔پھر اس کے بعد ہمارے حضرت مولوی صاحب کی زیر نگرانی و ہدایت جامعہ احمدیہ کی روشیں اور گیٹ وغیرہ بن کر حقیقتہ جامعہ احمدیہ ایک دینی کالج کی حیثیت اختیار کر گیا۔اور پھر اس کا الحاق بھی پنجاب یونیورسٹی سے منظور ہو گیا۔آپ نے جب ہماری کلاس کا اپنے مضمون (منطق و فلسفہ ) سے شغف دیکھا اور خود کلاس بھی ان سب کلاسوں سے بڑی تھی جو آپ کی شاگردی میں اس وقت تک آئی تھیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب استاد کے سامنے بہت سے جوان شاگرد بیٹھے ہوں تو اس وقت اسے جو لطف ان کو پڑھانے میں آتا ہے وہ اس صورت میں کبھی حاصل نہیں ہوتا۔جب صرف ایک یا دوشاگرد اس کے سامنے طوعا یا کر ہا بیٹھے ہوں۔اس لئے آپ نے ہمارے شغف کو دیکھ کر مقررہ نصاب پورا کر دینے کا عزم صمیم فرمالیا۔( کیونکہ اس وقت سے پہلے کبھی نصاب ختم نہیں ہوا کرتا تھا) اور باوجود اپنے دیگر جماعتی اہم مشاغل کے آپ ہمیں زائد وقت بھی اپنے مکان پر تعلیم دیتے رہے اور آپ نے اس قدر جد و جہد فرمائی کہ امتحان سے پہلے ہی نصاب ختم کرا دیا۔آپ کی اس بے لوث جد و جہد سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کو اپنے عزیز شاگردوں کی بہتری کا کس قدر خیال تھا۔فَجَزَهُ اللهُ