اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 29 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 29

۲۹ مراجعت وطن سہارن پور میں سال سوا سال پڑھانے کے بعد آپ ماہ رمضان کی تعطیلات میں وطن گئے۔آپ کو وطن سے بے رغبتی تھی۔اس لئے کہ پہاڑی علاقہ ہے اور لوگ جاہل ہیں۔علم کو ضائع کرنے کا موجب ہو سکتے ہیں لیکن ترقی کا باعث نہیں ہو سکتے۔بڑے بھائی نے اور اس کے بعد والد صاحب بزرگوار نے وطن میں اقامت گزین ہونے پر اصرار کیا تو آپ والد صاحب کے شوق علم اور اپنی ایک خواب کی بنا پر وطن میں ٹھہر گئے۔ایک پرانا خواب اور اس کی تعبیر حضرت مولوی صاحب کے وطن میں مقیم ہونے کا باعث دوسری بات یہ ہوئی کہ والد صاحب نے کسی سے ذکر کیا کہ جس طرح مجھے حدیث پڑھنے کا شوق تھا اور حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ سے پڑھ کر پورا ہوا۔اسی طرح قرآن مجید پڑھنے کا بھی مجھے شوق تھا اور مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ سید سرور شاہ قرآن مجید کا علم رکھتے ہیں۔اس لئے میں ان سے پڑھوں گا۔یہ بات سن کر آپ کو اپنا ایک پرانا خواب یاد آیا جو آپ نے ایک مولوی صاحب کو سُنا یا تھا جو کہ آپ کے گاؤں میں آپ کو پڑھانے کے واسطے رہتے تھے۔یہ استاد بہت باخدا تھے اور اس کا علم صرف مولوی صاحب کو تھا۔مولوی صاحب کو بچپن میں ہی تہجد کا شوق تھا اور اسے مخفی رکھنے کے لئے آپ نے مسجد میں جا کر جہاں رات کو کوئی نہیں ہوتا تھا نماز پڑھنی شروع کی۔معلوم ہوا کہ اس اندھیری مسجد میں استاد نماز پڑھتے ہیں۔بچوں جیسی عقل کی وجہ سے آپ نے چاہا کہ استاد صاحب سے پہلے آیا کریں مگر جس قدر پہلے آئیں وہ وہاں موجود ہوں آخر معلوم ہوا کہ وہ صرف جمعہ کی رات گھر جاتے ہیں اور کچھ زیادہ وقت گھر میں رہتے ہیں مگر پھر بھی آدھی رات کے وقت مسجد میں آجاتے ہیں اور دیگر ایام میں قریباً ساری رات مسجد میں رہتے تھے۔وہ تعبیر بھی عمدہ کرتے تھے۔آپ نے خواب دیکھا کہ گاؤں کے آگے جو دریا بہتا ہے اس پر شہناؤں کے ذریعہ والد صاحب اور بھائی اور دوسرے لوگ تیر رہے ہیں اور دریا بھی بڑا ہے لیکن آپ اس میں پیدل چلتے ہیں اور اس کا پانی گھٹنوں اور ٹخنوں تک رہتا ہے۔آپ اسی حیرانی میں بیدار ہو گئے کہ اتنا بڑا دریا ہے اور آپ کے صرف گھٹنوں اور ٹخنوں تک آتا ہے۔باوجود یکہ حضرت مولوی صاحب اس وقت نا بالغی کی عمر میں تھے اور آپ کو تعلیم نہیں دلائی جارہی تھی۔استاد نے یہ تعبیر بتائی کہ اللہ تعالیٰ تجھے علم دے گا اور علم پڑھ کے جب تم گھر آؤ گے تو تمہارے والد تم سے پڑھیں گے اور جو مقامات اوروں کے لئے بہت مشکل ہوں گے وہ تمہارے لئے آسان ہوں گے۔چنانچہ والد صاحب آپ کو دو سال تک سہارن پور سے واپس بلانے کا تقاضا کرتے