اصحاب احمد (جلد 5) — Page 486
۴۹۱ اور واقعہ بیان کرنے لگتے یہاں تک کہ گھنٹی گزر جاتی۔ہماری کلاس میں جو کہ مولوی فاضل کی آخری کلاس تھی چودہ لڑکے پڑھتے تھے۔ان میں سے اکثر لڑ کے ایک ایک کر کے چپکے سے کلاس روم سے باہر نکل جاتے اور جب گھنٹی ختم ہو جاتی اور آپ تشریف لے جاتے تو وہ ایک ایک کر کے واپس آ جاتے۔حضرت مولوی صاحب یہ سب کچھ دیکھتے رہتے لیکن کسی کو کچھ نہ کہتے تھے۔لڑکے یہ مجھتے تھے کہ آپ کو کچھ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کون آتا ہے اور کون جاتا ہے۔پہلے خود میرا بھی یہی خیال تھا کہ حضرت مولوی صاحب کو پتہ نہیں لگتا کہ لڑکے آپ کی کلاس سے کھسک جاتے ہیں لیکن جب خود حضرت مولوی صاحب نے میری اس غلط فہمی کو دور فرمایا تو اس وقت میری حیرت کی حد نہ رہی کہ حضرت مولوی صاحب کس طرح ہمارے اعمال پر نگاہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود عفو سے کام لیتے ہیں۔واقعہ یوں ہوا کہ ہماری کلاس کا ایک لڑکا بڑا ذہین تھا اسے اپنی کامیابی پر اتنا یقین تھا کہ وہ فخر سے کہا کرتا تھا کہ میں اس سال یو نیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کروں گا۔اس کے علاوہ ایک دو اور لڑ کے بھی زیادہ ہوشیار تھے باقی سب متوسط درجہ کے تھے۔میں ان لڑکوں میں تھا جن کی حالت بین بین ہوتی ہے یعنی نہ ان کو اپنی کامیابی کا یقین ہوتا ہے نہ نا کامی کا۔عام طور پر دستور یہ ہوتا ہے کہ جب امتحان قریب ہوتے ہیں تو لڑکے حضرت صاحب اور بزرگوں کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کرتے ہیں۔مسجدوں میں دعا کے لئے اعلان کرواتے ہیں وغیرہ۔ان ایام میں لڑکے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں بھی دعا کے لئے خاص طور پر عرض کرتے تھے۔ایک دن میں آپ کے گھر گیا ہوا تھا تو آپ نے مجھے بلا کر کہا کہ محمد احمد ! میں آج تمہیں ایک بات بتاتا ہوں لیکن یہ بات کسی کو نہ بتانا۔فرمانے لگے کہ سابقہ جماعتوں کا یہ طریق رہا کہ جب امتحان قریب ہوتا تو میرے پاس اجتماعی صورت میں بھی اور انفرادی صورت میں بھی آتے اور دعا کے لئے کہتے۔حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتے اور دوسرے بزرگوں کو بھی کہتے لیکن تمہاری کلاس نے نہ کبھی مجھے دعا کے لئے کہا ہے نہ مسجد میں کبھی دعا کا اعلان کروایا ہے اور نہ ہی پڑھائی کی طرف توجہ ہے۔جب میں کلاس میں آتا ہوں اور پڑھانا شروع کرتا ہوں تو طالب علم ایک ایک کر کے باہر نکل جاتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے پتہ نہیں لگتا۔حالانکہ مجھے سب کچھ پتہ ہوتا ہے اور میں درگزر سے کام لیتا ہوں اسی طرح وہ کہتے پھرتے ہیں کہ سرورشاہ پڑھا تا نہیں ہے۔قصے کہانیاں بیان کرتا ہے حالانکہ اگر وہ غور سے پڑھیں اور فائدہ اٹھانے کی نیت کر لیں تو یہ چند اوراق جو میں نے کتاب کے پڑھائے ہیں ان میں میں نے ساری منطق اور فلسفہ بیان کر دیا ہے۔فرمانے لگے کہ یہ لڑ کے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔وہ لڑکا جس کا میں اوپر ذکر کر آیا ہوں کہ وہ بڑا ہوشیار تھا اور اسے یو نیورسٹی میں اعلیٰ پوزیشن کا خیال تھا۔اس کے متعلق فرمانے لگے کہ وہ لڑکا بڑا مغرور ہے وہ یہ سجھتا ہے کہ میں پڑھائی کے زور سے کامیاب ہو جاؤں گا اور اسے دعا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ بات یا درکھو کہ اس