اصحاب احمد (جلد 5) — Page 471
در گفتگو کے بعد مجھ سے مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے ذکر کیا کہ شاید ام طاہر سے یہ مراد ہو کہ گووہ شخص کتم ایمان کا مرتکب ہو اور اس وجہ سے اپنی جان بھی کھو بیٹھے مگر اس کے بعد اس کی نسل طاہر ثابت ہو اور احمدیت کی خادم بنے اور اس طرح وہ شخص ام طاہر کا لقب پانے کامستحق ہو۔یہ تعبیر بہت درست معلوم ہوتی ہے اور اس سے بظاہر خواب کی پیچیدگی دور ہو جاتی ہے۔‘۳۰ بچیوں کی اعلیٰ تربیت بچیوں کی تربیت آپ نے نہایت عمدہ طریق پر کی۔جس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوا۔آپ حضرت خلیفہ اول کے سمدھی بنے اور تین بچیوں کی شادیاں آپ نے جن معززین سے کیں۔ہرسہ کی ہمشیرگان حضرت خلیفتہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی زوجیت میں آئیں۔محترم قاضی ظہور الدین صاحب اکمل نے رقم فرمایا ؛ اپنی لڑکیوں کو جس محبت کے ساتھ آپ نے تربیت فرمایا۔اس کی مثال بھی بہت کم دیکھنے میں آتی ہے اور عملاً اپنی قلبی کیفیت پر یہ شاہد عدل پیش کر رہے تھے کہ باوجود اس بڑی عمر کے لڑکیوں کے پیدا ہونے کو نعمت الہی سمجھتے ہیں اور ذرا بھی خلجان نہیں۔مجلس عرفان کی بینچ آپ کی یادگار بعد از مغرب ۱۸ مارچ ۱۹۴۴ء کی مجلس عرفان کے تعلق میں مرقوم ہے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے عرض کیا کہ لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ حضور کی آواز تو سب تک پہنچ جاتی ہے مگر چونکہ لوگ حضور کی زیارت کے بھی خواہش مند ہوتے ہیں اس لئے اگر اجازت ہو تو یہاں محراب میں کوئی اونچی سی جگہ بنادی جائے۔جس پر حضور تشریف رکھیں تا کہ لوگ حضور کی باتیں سننے کے ساتھ ساتھ حضور کی زیارت سے بھی مشرف ہوتے رہیں۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔بدر ۱۱-۱۱-۲ ص ۵ ک۱) خاکسار مؤلف کو یاد ہے ایک دفعہ آپ نے خطبہ میں کسی تعلق میں یہ فرمایا تھا کہ جن تین خاندانوں میں میں نے اپنی بچیوں کی شادیاں کیں بعد میں ہرسہ میرے دامادوں کی ہمشیرگان سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے عقد کیا۔مراد سیدہ امتہ الحی ، سیدہ ام وسیم ، سیدہ ام طاہر رضی اللہ عنہا تھیں بعد میں انہی خاندانوں میں سے سیدہ مہر آپا صاحبہ ہیں اور حضور کے داما دسید داؤ د مظفر صاحب بھی۔