اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 466 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 466

دوں گا۔لیکن درس کے آخری الفاظ ا بھی منہ میں ہی تھے کہ سوالات کا جواب دئے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے۔مہتمم صاحب مدرسہ نے دعوت کی اور دعوت کے موقع پر تقریر میں کہا کہ مولوی محمد سرور شاہ صاحب کے استاد مولانا محمودالحسن صاحب اس لئے دعوت میں شریک نہیں ہوئے کہ ان کا خیال ہے کہ دیو بند کا تعلیم یافتہ بھی کسی فرقہ میں نہیں جا سکتا۔مولوی سرور شاہ صاحب واحد شخص ہیں جو ایک استثنائی مثال ہیں جو کہ دوسرے فرقہ میں شامل ہو گئے ہیں۔اس لئے میں ان سے ملنا نہیں چاہتا۔وہاں بقہ علاقہ پکھر صوبہ سرحد کے رہنے والے ایک پٹھان مولوی غلام رسول صاحب منطق کے استاد تھے کسی وقت ان کا جائیداد کا مقدمہ عدالت میں تھا۔ان ایام میں مولوی محمد سرور شاہ صاحب ایبٹ آباد ہوتے تھے۔اور آپ کی وساطت سے اس نے کامیابی حاصل کی تھی۔درس حدیث کے بعد وفد باہر نکلا تو سامنے یہی پٹھان مولوی صاحب نظر پڑے۔مولوی سرور شاہ صاحب ان سے ملنے گئے تو انہوں نے کہا کہ کاش میرے پاس تلوار ہوتی تو میں تیری خبر لیتا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کا شرف استادی حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ( ایدہ اللہ تعالی ) مسندِ خلافت پر (۱۴ مارچ ۱۹۱۴ء کو متممکن ہونے تک آپ سے تعلیم پاتے رہے۔وجودایت سید احمد علی صاحب فاضل جب حضرت صاحبزادہ صاحب ہنوز چوتھی جماعت میں زیر تعلیم تھے اس وقت کی خواہیں حضرت مولوی صاحب کو سنائیں لیکن بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا آیا سنانے کے وقت آپ چوتھی جماعت میں ہی پڑھتے تھے۔یقیناً نہیں کیونکہ حضرت مولوی صاحب ۱۹۰۱ء میں ہجرت کر کے آئے تو حضرت صاحبزادہ صاحب بارہ سال کی عمر کے تھے اس وقت یقیناً آپ چوتھی جماعت میں زیر تعلیم نہیں تھے۔خاکسار کو مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ امیر مقامی سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت مولوی صاحب حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مدرسہ تعلیم الاسلام میں چھٹی سے دسویں جماعت تک دینیات کی تعلیم دیتے تھے نچلی جماعتوں کو مولوی عبداللہ صاحب کشمیری پڑھاتے تھے خاکسار کے تایا جان مکرم حکیم دین محمد صاحب پنشنر مقیم دارالرحمت وسطی ربوہ استفسار پر تحریر کرتے ہیں کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ( خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) میرے ہم جماعت تھے ہمیں حضرت مولوی صاحب نے ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۴ء تک نویں اور دسویں جماعت میں عربی نصاب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”مواہب الرحمن پڑھائی تھی۔