اصحاب احمد (جلد 5) — Page 462
۴۶۷ آپ کو اس کام کے لائق سمجھتا ہوں۔۲۱۴ بقیہ حاشیہ:- عبرتناک انجام حضرت اقدس کی ہر بات کیسی لفظ بہ لفظ پوری ہوئی۔دیکھئے گا کہ 'مامور“ کی مساعی کا کیا نتیجہ نکلا۔اس جھگڑے۔نہیں نہیں بلکہ رگڑے نے جماعت کو بہت نقصان پہنچایا۔اس کا نظم ونسق تباہ و برباد ہو گیا۔مجموعی طور پر جو کام ہونا چاہئے تھا وہ نہ ہو سکا۔اور نہ ہی جماعتی نقطہ نگاہ سے جماعت اہلحدیث کو ملک میں وہ جماعتی پوزیشن مل سکی یا ملکی اور سیاسی مفاد حاصل ہو سکے جن کی توقع تھی یا جن کے حصول کا اسے حق حاصل تھا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔(صفر ۳۸۴،۳۸۳)۔گویا جسے اللہ تعالیٰ نے خدمت اسلام اور احیائے و بقائے کتاب وسنت کے لئے مامور فرمایا۔“ (صفحہ ۶۱) وہ حسرت و یاس ، نا کامی و نامرادی اور جماعتی نقصان وخسران اور تبار واد بار کی جیتی جاگتی اور منہ بولتی تصویر ثابت ہوا اور جو اپنے فرقہ کو منظم رکھنا چاہتا تھا پنتالیس سال تک فتان ثابت ہوا۔( بحوالہ اعجاز احمدی - صفحہ ۴۱) یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ ثناء اللہ حضرت رب جلیل کی طرف سے مبعوث بطل جلیل حضرت مسیح موعو د ایدہ اللہ الودود کی مخالفت پر کمر بستہ ہوا۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو ولی ہوتا ہے اسے اہل دنیا میں قبولیت دی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان کے مظاہر کو لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی کے مطابق مغلوبیت و خواری ہوتی ہے ایک طرف اس سے یہ سلوک اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کا حضرت صاحب اور آپ کی جماعت سے وہ اعلیٰ سلوک کہ دشمن بھی انگشت بدندان ہیں۔ثناء اللہ اور بیچو قسم کے اعداء کی منظم مساعی اکارت گئیں اور احمدیت کا جوالٹی سلسلہ ہے بال تک بریکا نہیں کرسکیں۔یہ سیرت نگار آنکھوں کو چندھیانے والی تابناک احمدیت کی ترقی سے نہایت بیکل ہو کر لکھتا ہے؛ ”اے کاش! مسلمان پھر جماعت مرزائیہ کی ریشہ دوانیوں اور دسیسہ کاریوں پر متوجہ ہوں۔جس کے فتنے پاکستان میں قیامت بنتے ہیں اور جس کے مفسدات قوم میں نفاق وافتراق پیدا کر رہے ہیں۔“ ( صفحه ۲۷۲،۷۲۱) مباحثہ مد کے بعد قریباً نصف صدی تک ثناء اللہ کے رفقاء نے اسے چین نہیں لینے دیا۔اس نے کہا تھا کہ جھوٹے ،مفسد اور نا فرمان لوگوں کو لمبی عمریں ملتی ہیں تا اور بھی برے کام کر لیں۔چنانچہ یہ بات پوری ہوئی