اصحاب احمد (جلد 5) — Page 460
رہ گئے۔درج شدہ اسماء میں حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا نام بھی درج ہے۔آپ کی درخواست بقیہ حاشیہ: میں نازل فرمایا۔اور حضور نے دس ہزار روپیہ کا انعام مقرر کیا۔اگر مولوی ثناء اللہ صاحب خواہ دوسروں سے مدد لے کر پانچ دن کے عرصہ میں جتنے عرصہ میں اعجاز احمدی کا اردو حصہ اور قصیدہ عربی لکھا گیا وو تھا ایسا ہی جواب بنا کر شائع کر دیں اور چھپوائی وغیرہ کے لئے کل عرصہ بیس دن مقرر فرمایا تھا اور فرمایا:۔دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں۔۔۔۔تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کار دلکھ سکیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ ان کی قلموں کو توڑ دے گا۔اور ان کے دلوں کو نبی کر دے گا۔(صفحہ ۲۵) د اگر۔۔۔۔انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا۔اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔“ (صفحہ ۹۰) یہ لوگ جواب شائع کرنے سے قاصر رہے بلکہ اخبار محنہ ہند میرٹھ نے شروع ۱۹۰۳ء میں جواب شائع کرنے کی تعلی کی اور اس بناء پر لوگوں میں تین ہزار روپیہ چندہ کی تحریک کی ( البدر ۰۲-۱۲-۱۲ ) لیکن مدت گذرنے پر بھی وہ جواب نہ تیار کر سکا۔اور مینٹل کالج لاہور کے ایک پروفیسر قاضی ظفر الدین احمد صاحب نے اعجاز احمدی کے جواب میں چند عربی شعر لکھے ہی تھے کہ موت نے ان کو آدبوچا اور ساڑھے چار سال بعد ان کا بیٹا ایک احمدی سے مباہلہ کے نتیجہ میں لقمہ اجل ہو گیا۔۳۶) حضور فرماتے ہیں:۔ارى الموت يعتام المكفّر بعده اب کا فر کہنے والا گو یا مر جائے گا۔صفحہ ۴۲) فألفت هذا النظم اعنى قصيدتي ليُخزى ربّى كُلّ من كان يهذر (صفحہ ۴۲۔میں نے یہ قصیدہ اس لئے تالیف کیا ہے تا بکو اس کرنے والوں کو میرا رب رسوا کرے۔وقال ثناء الله انت كاذب فقلت لك الويلات انت ستحسر (صفحہ ۴۶۔ثناء اللہ نے مجھے جھوٹا کہا میں نے کہا تجھ پر واویلا ہے تو عنقریب ننگا کیا جائے گا) و فرج کروبی یا الهی و نجنی و مزق خصیمی یا نصیری و عفر (صفحہ ۲۸۔اے میرے اللہ میرے غم دور کر دے ان سے مجھے نجات دے اوراے میرے مددگار ! میرے دشمن کو پارہ پارہ کر اور خاک میں ملا )