اصحاب احمد (جلد 5) — Page 445
۴۵۰ اس لئے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ جس شے کی اسے ضرورت ہو وہ بلا تکلف کہہ دے۔بعد ازیں حضرت جی حاشیہ: یہ مہر و وفا کا پتلا تھا بھی اسی لائق کہ ساری عمر مذ ہب وقوم کی خدمت کر کے پنجاب کے ایک ایسے گمنام گوشے میں دفن ہو جائے جہاں اس کا کوئی یار و غم خوار دعائے مغفرت کے لئے بھی نہ پہنچ سکے۔کیا قائم کرنی ہے کسی نے اس کی یادگار ؟۔۔۔آج تو یہ حالت ہے کہ مرحوم کی سوانح عمری لکھنا تو ایک طرف۔غالبا اسے کوئی پڑھنا بھی پسند نہ کرے گا۔انا للہ ہم نے کئی ماہ تک اپنے جریدہ اہلحدیث میں اعلان شائع کیا اور احباب و بزرگان جماعت کو خصوصیت سے دعوت دی۔۔۔مگر حیف اور صد حیف ! ابوالوفاء کے احباب و یاران غار نے کوئی توجہ نہ دی چندا حباب نے جو مضامین ہمیں ارسال فرمائے۔مختصر اور نا کافی تھے۔“ (صفحہ ۵ تا۶) اخویم شیخ ارشد علی صاحب ایڈووکیٹ مقیم سیالکوٹ نے سنایا کہ میں نے ۱۹۴۰ء سے قبل خواب دیکھا ( جو انہوں نے اس وقت کا نوشتہ مجھے ایک کاپی سے اتفاقاً ملاقات ہونے پر دکھایا کہ ایک گھوڑ دوڑ کے میدان میں رکھیں تیزی سے دوڑ رہی ہیں کہ اتنے میں ایک آدمی ان کے نیچے آ کر مر گیا۔دیکھا تو مولوی ثناء اللہ تھے۔میں نے اس کی اطلاع حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو دی تو فرمایا ایسے کئی مرتے ہیں۔اس کی لاش باہر پھینک دو۔-۵- موازنه مابین سید محمد سرور شاہ صاحب و مولوی ثناء اللہ صاحب ہر دو کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب بوقت مباحثہ مد چونتیس برس کے تھے اور مولوی سرور شاہ صاحب سے پانچ سال بڑے تھے۔گویا پانچ سال زیادہ مطالعہ کا موقع پاچکے تھے۔علوم عقیلہ و نقبیلہ میں خوب منجھے ہوئے تھے۔نہایت بلند پایہ علماء فضلا سے حصول علم کے علاوہ بد وشیاب سے مناظرہ میں جو ہر دکھانے شروع کئے تھے۔ان کے اساتذہ ان کے اس جوہر کی داد دیتے تھے۔سیرۃ نگار کے نزدیک اپنے حریف کا ناطقہ بند کر دیتے تھے اور مناظرین میں ان پر نظر انتخاب اٹھتی تھی۔ان کی قوم ان کی ہمنوا تھی۔ان حالات میں سید محمد سرور شاہ صاحب کے ساتھ مناظرہ ہوا۔یوں تو ہر فریق کہے گا کہ حریف شکست فاش کھا گیا۔یہ مقابلہ جسمانی دنگل نہ تھا کہ جس کی فتح و شکست ظاہری آنکھ سے دیکھنا بالکل سہل امر ہو۔یہ مقابلہ احمدیت کے پہلوان اور غیر احمدیوں کے پہلوان میں تھا اور روحانیت کے میدان میں تھا۔فتح نصیب