اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 439 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 439

۴۴۴ احباب کے لئے تو اور بھی آپ کی روح میں جوش شفقت ہوتا ہے۔اس کے اظہار کے لئے ہم ذیل کا واقعہ درج کر دیتے ہیں۔حاشیہ: - ہوئے۔مولا نا وہاں شاہی مہمان بنے۔(صفحہ ۲۲۰ تا ۲۳۵ ،۲۹۳) (د) اجراء اخبارات انہوں نے ۱۹۰۰ ء میں اخبار مسلمان ماہوار اور پھر ہفت روزہ اور ۱۹۰۳ء میں ہفت روزہ اہلحدیث اور ۱۹۰۷ء ماہنامہ ” مرقع قادیان جاری کئے۔اہلحدیث ۱۹۴۷ء تک جاری رہا۔(صفحہ ۲۶۲ ۲۷۰،۲۶۳) ۲- تفسیر القرآن اور فتاوی کفر مؤلف سیرۃ لکھتا ہے کہ ۱۹۰۳ء میں مولوی صاحب نے تفسیر القرآن بکلام الرحمن لکھی۔جو ان کی اولین علمی تصنیف تھی۔جو بیرونی دنیا میں بہت مقبول ہوئی اور آپ کو مصر، عرب، عراق اور شام میں مشہور کر دیا۔لیجئے سنیئے مقبولیت کا کچا چٹھا! جماعت اہلحدیث میں اس کی اشاعت سے مخالفت کی ایک لہر دوڑ گئی اور مولوی کو ملحد ، زندیق، خارج از اہلحدیث اور کا فرقرار دیا گیا۔حضرت مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی نے (جنہیں مؤلف سیرۃ نے اولیاء اللہ میں شمار کیا ہے ) ایک کتاب "الاربعین فی ان ثناء اللہ لیس علی مذهب المحد ثین میں مولوی صاحب کے معتزل یا نیچری ہونے کا فتویٰ دیا اور ملک کے چیدہ چیدہ علماء سے تصدیق کرا کے اسے شائع کر دیا۔مولوی صاحب کے استاد حافظ عبدالمنان صاحب جن سے مولوی صاحب نے حدیث کی سند حاصل کی تھی۔اپنے شاگردرشید کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ ضد پر قائم ہیں (بالفاظ دیگر ناحق پر ہیں اور علماء حق پر ہیں ) ( صفحہ ۳۶۷ تا ۳۷۰) مولوی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ یہ مسئلہ علماء کی ایک مجلس کے سپر د کیا جائے۔چنانچہ ۱۹۰۵ء میں علماء نے ان چالیس اغلاط میں سے جو مولانا عبدالجبار صاحب غزنوی نے تفسیر میں سے قائم کی تھیں چودہ کو درست قرار دیا لیکن یہ فیصلہ کیا کہ ان کی وجہ سے وہ جماعت اہلحدیث سے خارج نہیں ہو سکتے۔مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ( جنہیں مؤلف سیرۃ زہد و تقویٰ میں کمال رکھنے والے قرار دیتا ہے اور وہ مولوی صاحب کے استاد حافظ عبدالمنان صاحب کے بھی استاد تھے ) مولانا فقیر اللہ مدراسی ( جنہوں نے بنگلور