اصحاب احمد (جلد 5) — Page 416
۴۲۱ جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا تو آپ وہاں پرنسپل تھے۔حضرت علامہ میر محمد اسحاق صاحب حضرت علامہ مولانا محمد اسمعیل صاحب جلالپوری جیسے قابل اساتذہ اس زمانہ میں پروفیسر تھے۔حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا قد گو قدرے چھوٹا تھا مگر چہرہ بھاری اور سر بڑا تھا۔میں نے کبھی آپ کو پورے لباس کے بغیر مسجد یا جامعہ میں جاتے نہیں دیکھا۔ہمیشہ بجبہ زیب تن رکھتے تھے۔پگڑی بڑی ہوتی تھی لمبا کرتہ اور ایک پاجامہ پہنتے تھے۔جسم ورزشی تھا۔شیر کی مانند دلیر تھے۔شروع شروع میں چونکہ قادیان کی آبادی کم تھی اس لئے آس پاس کے دیہاتی لوگ بعض اوقات چوری کی وارداتیں بھی کرتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ایک سے زیادہ مرتبہ آپ نے بعض چوروں کو پکڑا اور جب سکھوں سے بعض اوقات مقابلہ ہوتا تھا تو آپ ہمیشہ صف اول میں نظر آتے تھے۔آپ کی چلنے کی رفتار بہت باوقا تھی۔حضرت میر محمد الحق صاحب کی طرح بارش ہو یا آندھی آپ کے چلنے کی رفتار میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میاں ! میں نے کبھی چھٹی نہیں لی۔آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بھی تھے۔سلسلہ کے مفتی بھی تھے اور دفتر بہشتی مقبرہ کے سیکرٹری بھی اور یہ سارے کام پوری توجہ اور تند ہی سے سرانجام دیتے تھے۔جس زمانہ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس زمانہ میں ٹیوش وغیرہ پر پڑھانے کا نہ کبھی کسی استاد کو خیال آیا تھا نہ شاگرد کو جب کسی شاگرد کو پڑھنے کی ضرورت پیش آتی تو وہ استاد کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کر دیتا اور استاد کہتا میاں ! جامعہ سے فارغ ہو کر کسی موزوں وقت میرے گھر آجایا کرو۔میں تمہیں پڑھا دیا کروں گا۔مجھے یا د ہے مولوی فاضل کے امتحان سے قبل آپ ساری کلاس کو منطق اور فلسفہ پڑھانے کے لئے نماز ظہر کے بعد اپنے مکان پر بلایا کرتے تھے اور زنانہ جلسہ گاہ میں جو آپ کے مکان کے سامنے ہی تھا پڑھایا کرتے تھے۔آپ چونکہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے بھی استاد تھے اور نہایت ہی کارآمد وجود تھے۔اس لئے حضرت خلیفتہ اسیخ آپ کی ذاتی طور پر بھی نقدی اور تحائف وغیرہ سے امداد فر مایا کرتے تھے۔میاں محمد یوسف صاحب جو آج کل ربوہ میں کباب فروش ہیں ان کی دودھ دہی کی دکان تھی وہاں سے روزانہ ایک پیالہ ملائی کا آپ کے ہاں جاتا تھا اور اس کے بعد آپ دن میں دو تین مرتبہ قہوہ پیا کرتے تھے۔سخت دو پہر کے وقت بھی ہم آپ کو قہوہ پیتے دیکھتے تھے۔چونکہ آپ قادیان کے خاص بزرگوں میں سے تھے اور سید بھی تھے۔اس لئے بعض عورتیں اور مرد آپ سے دم کروانے کے لئے آپ کے پاس اپنے بچوں کو بھی لایا کرتے تھے اور بعض اوقات پانی یا کسی اور چیز پر بھی