اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 409 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 409

۴۱۴ دن مسجد مبارک سے صبح کی نماز پڑھا کر جب حضرت شاہ صاحب اپنے دولت خانہ کی طرف روانہ ہوئے تو میں نے آگے بڑھ کر السلام علیکم عرض کیا اور مصافحہ کے بعد میں نے مولوی ثناء اللہ کی ملاقات کا حال بیان کیا۔فرمایا میں اس شخص کو شروع سے جانتا ہوں۔جب ہم دیو بند میں پڑھتے تھے۔یہ شہرت پسند ہے اور ہر طرف سے واہ واہ اور شاباش کا خواہش مند ہے۔حالانکہ یہ شخص ہم کو مسلمان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کو دل سے مانتا ہے واستيقنتها انفسهم لله والا اس کا حال ہے۔چنانچہ ۱۹۲۴ء میں جب ہمارے بھائی مولوی نعمت اللہ صاحب کو کابل میں سنگسار کر کے شہید کر دیا گیا تھا تو امیر کابل کو تمام مسلمان اخبارات میں داد تحسین دی گئی کہ آپ نے مرتد کو اس کی سز ا سنگساری دے کر مردہ سنت کر زندہ کیا ہے۔اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے اہلحدیث ۱۳ اکتوبر ۱۹۲۴ء کے پرچہ میں صفحہ ۴۲۳ پر ایک مضمون لکھا جس سے ثابت کیا کہ قتل اور سنگسار کرنا مرتد کی یہ سزا ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی احمدی مرتد ہیں اور احمدی امام کی اقتداء میں نماز کے جواز کا بھی ان کا فتویٰ موجود ہے۔وغیرہ ذالک۔لہذا یہ شخص زیادہ مجرم ہے ہم اس کو نہیں ملنا چاہتے۔مصلح موعود ایدہ اللہ الودود کے جلسہ ہوشیار پور (۱۹۴۴ء میں شمولیت کے لئے ہمارا ایک وفد قادیان ☆ سے جو غالبا ۵ یا ۷ افراد پر مشتمل سائیکل سوار تھا۔میں نے اپنے رفقاء کی خدمت میں درخواست کی کہ میری خواہش ہے کہ راستہ کے ہر ایک گاؤں میں بلا استثناء تبلیغ کرتے جائیں۔چنانچہ ایک گاؤں میں سے جب ہم گزر رہے تھے تو ایک جگہ ایک مجلس تعزیت قائم تھی۔جو شخص ہاتھ اٹھا کر فاتحہ خوانی نہ کرے وہ ان لوگوں کی نگاہ میں بڑا مبغوض ہوتا ہے میں نے بھی مصلحنا فاتحہ خوانی کے لئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور پھر تبلیغ کی۔میرے بعض رفقاء نے اس امر کو نا پسند کیا میں نے کہا کہ تبلیغ کی خاطر میں نے ایسا کیا تھا۔یہ واقعہ کسی نے حضرت شاہ صاحب کے سامنے جو مفتی سلسلہ تھے پیش کر دیا۔آپ کے دریافت فرمانے پر میں نے صحیح صحیح واقعہ بیان کر دیا تو اس پر آپ نے فرمایا کہ تبلیغ کا راستہ تو اس طرح بھی نکل سکتا تھا کہ وہ لوگ جب اعتراض کرتے کہ آپ نے فاتحہ خوانی کی رسم کیوں نہیں ادا کی تو آپ کہہ دیتے کہ یہ طریق بدعت ہے اس کا کوئی ثبوت قرآن مجید اور احادیث میں نہیں ملتا۔اس طرح تو آپ نے ان کے ساتھ اس بدعت میں شرکت کر لی۔مولوی ثناء اللہ صاحب تحریر کرتے ہیں۔”ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ صورت موجودہ میں سنگسار کرنے کا حکم نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں نہ کتب فقہ حنفیہ میں نہ شافعیہ وغیرہ میں۔اگر اس کا نام سیاسی حکم رکھا جائے تو ہمیں اس پر بحث نہیں۔“ (صفحہ ۳) مؤلف۔