اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 398 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 398

۴۰۳ حوصلہ پا کر اپنی علمی اور اخلاقی ترقی میں قدم آگے بڑھاتا چلا جاتا تھا۔آپ کی طبیعت میں بے حد نرمی تھی اور آپ اپنی اولاد کے لئے تو مجسم محبت تھے۔ماہ اگست ۱۹۲۸ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قرآن مجید کا درس دینا شروع فرمایا تھا جس میں احباب قادیان کے علاوہ سینکڑوں قرآن کے شیدائی قادیان کے بیرون سے آکر بھی شامل ہوتے تھے۔حضور سامعین سے روزانہ امتحان بھی لیا کرتے تھے۔دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے بحکم سیدنا ޏ حضرت صاحب زود نویسوں اور علماء کی جماعت متعین ہوئی تھی کہ وہ حضرت اقدس کے بیان فرمودہ درس - نوٹ لیا کریں اور وہ کا پیاں آئندہ کے لئے محفوظ رکھی جائیں۔ان کا پی نویسوں میں حضرت مولانا صاحب شامل تھے اور خاکسار کو بھی اس جماعت میں شمولیت کا شرف حاصل ہوا تھا اور غالبا وہ کا پیاں اب تک محفوظ ہوں گی۔چونکہ حضرت مولانا صاحب آہستہ آہستہ لکھا کرتے تھے اور تیز لکھنے کی عادت اور مشق نہ تھی۔ایک دفعہ میں نے اختتام درس پر حضرت مولانا صاحب سے عرض کیا کہ آپ لکھنے کی توفیق کیوں اٹھاتے ہیں آپ کو قرآن مجید کے علوم سے واقفیت اور پورا عبور حاصل ہے۔آپ نے جواباً فرمایا ایک تو میں حضرت صاحب کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں دوم یہ کہ اگر چہ میں حضور کو خلافت سے قبل پڑھا تا رہا ہوں لیکن منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ پر معارف اور حقائق قرآنیہ کا ایسا دروازہ کھولا ہے کہ میر افہم ان علوم سے قاصر تھا اور اب میں حضور کا شاگرد ہوں ، استاد نہیں ہوں۔مسجد مبارک میں نماز ظہر یا نماز عصر کے بعد جب حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تشریف فرما ہوتے تو حضور کے پُر مغز اور پُر معارف کلام کو سننے کے لئے سامعین مؤدبانہ طور پر ہمہ تن گوش ہوتے تھے اور حضرت مولانا صاحب کی یہ عادت تھی کہ آپ کے ہاتھ میں رومال ہوتا تھا جس سے کسی مکھی کو آپ حضور کے جسم مبارک پر نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔اس سے مجھ پر یہ اثر تھا کہ آپ کو منصب خلافت کی عظمت کا بہت خیال ہے۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم بھی آپ کے اس نیک نمونہ سے سبق حاصل کریں۔آپ کا تعلیمی طریق بالکل نرالا تھا۔آپ پڑھاتے وقت ہمیشہ سبق زیر بحث کے متعلق ضرور بلا ناغہ کچھ واقعات یا اپنے تجربات بیان فرمایا کرتے تھے گو اس سے درسی کتب کے پڑھانے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی تھی اور بعض طلباء تو مؤدبانہ طور پر عرض خدمت بھی کرتے تھے کہ آج بجائے چار صفحات کے صرف دو صفحے پڑھے گئے۔لیکن ایک لمبے تجربہ کی بناء پر خاکسار عرض کرتا ہے کہ وہ طریقہ تعلیم طلبہ کے لئے غیر شعوری طور پر بہت مفید تھا۔کیونکہ جس سبق کی تقریب اور مناسب تعلق کی وجہ سے واقعات اور ذاتی تجربات کا ذکر ہوتا تھا اس سے