اصحاب احمد (جلد 5) — Page 397
۴۰۲ ہو گئیں۔آپ کی شفقت کو بیان کرنے کے لئے میرے پاس موزوں الفاظ نہیں۔جب آپ کسی شاگرد میں اپنی صحیح فراست کی بناء پر کوئی قابلیت ار علمی صلاحیت محسوس کرتے ہیں تو اس کی بڑی قدردانی اور حوصلہ افزائی فرماتے۔چنانچہ جون ۱۹۱۸ء میں میری درخواست کے بغیر سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت بابرکت میں آپ نے سفارش فرمائی کہ اس عاجز کو مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ کرام کے پاک زمرہ میں شامل فرمایا جائے۔چنانچہ حضور کے ارشاد پر مدرسہ احمدیہ میں مدرسہ کی خدمت پر میں مامور ہوا اور بائیس روپے میرا مشاہرہ منظور ہوا۔اس وقت دیگر مدارس میں گریڈ پینتیس روپے سے شروع ہوتا تھا۔میں نے مولانا صاحب سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ جب میں احمدی ہوا تو میں مشن کالج پشاور میں سوروپیہ کا ملازم تھا۔مگر میں نے یہ ملازمت ترک کر کے قادیان میں مدرسہ تعلیم الاسلام کی چودہ روپیہ ماہوار کی نوکری نہایت بشاشت سے قبول کر لی کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ مرکز سے وابستہ ہونے کے مقابل روپے کی حیثیت ہی کیا ہے مجھے گھر کے اخراجات کا کبھی فکر نہیں ہوا۔چنانچہ حضرت مولانا صاحب کی اس نصیحت کا مجھ پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ پھر مجھے کسی اور ملازمت کا خیال ہی پیدا نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے بھی میری تنخواہ میں اتنی برکت ڈالی کہ میں نے قادیان میں اپنا مکان بھی تعمیر کر لیا اور جب عرصہ تک پہلی شادی سے اولاد نہ ہوئی تو دوسری شادی کی توفیق بھی پائی اور اولاد ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے تمام اخراجات کا کفیل ہوا۔فالحمد اللہ علی ذالک۔خاکسار ۱۹۲۹ء میں اساتذہ کرام خصوصاً حضرت مولانا صاحب کی شفقت و تربیت کی برکت سے مدرسہ احمدیہ سے جامعہ احمدیہ میں بطور ترقی تبدیل ہوا۔آپ اس وقت پرنسپل تھے۔دیگر سینئر اساتذہ کے موجود ہونے کے باوجود کئی امور میں آپ کی نظر انتخاب مجھ پر پڑی اور آپ نے میری معمولی علمی صلاحیت کی قدردانی فرمائی جو میری علمی ترقی کا باعث ہوئی۔نومبر ۱۹۳۲ء میں جامعہ احمدیہ سے ایک کامیاب تفریحی اور تبلیغی وفد قادیان سے روانہ ہوکر متعدد شہروں میں دورہ کر کے علی گڑھ گیا تھا اور اس وقت سلسلہ احمدیہ کے اکثر کامیاب مبلغین اس وفد میں شامل تھے۔مفصل حالات الفضل اور رسالہ ”جامعہ احمدیہ دسمبر ۱۹۳۲ء میں چھپ چکے ہیں ) حضرت مولانا صاحب نے اس ادنی شاگرد کو از راہ ذرہ نوازی حضرت سیدنا خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے اس اہم وفد کا نگران اعلیٰ مقررفرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور آپ کی دعاؤں اور حسن ظنی کی برکت سے اس وفد کا دورہ گوناگوں برکتوں اور تبلیغی تجربوں کا باعث ثابت ہوا تھا۔الغرض حضرت مولانا صاحب صاحب علم اور صاحب فراست تھے اور آپ اپنے کسی شاگرد کی معمولی صلاحیت کے بھی قدردان ہوتے تھے جس سے وہ شاگرد