اصحاب احمد (جلد 5) — Page 396
لد ۱۰ پر منظور کیا لیکن میں نے اس وظیفہ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔پھر ایک موقع پر تصنیف مولوی محمد علی صاحب النبوة فی الاسلام مجھ کو بطور تحفہ دی گئی۔حسن اتفاق سے احمد یہ بلڈنگ کے قریب ایک مخلص مبائع طالب علم رہتا تھا جو اکثر اوقات میرے پاس آیا کرتا تھا۔اس وقت مجھے ان کا نام یاد نہیں ان کو ان حالات کا علم تھا۔وہ کسی کام کے لئے ان دنوں قادیان گیا۔اور باتوں باتوں میں حضرت مولانا صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سامنے میرے متعلق ان حالات کا ذکر کیا۔ان ہر دو بزرگوں کو ی فکر دامنگیر ہوئی کہ کہیں یہ ہمارا تربیت یافتہ عزیز کسی لالچ سے لغزش نہ کھا جائے۔حضرت مفتی صاحب کی طرف سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تصنیف ” حقیقتہ النبوۃ اور حضرت مولانا کی طرف سے درد مند نصائح سے پر مکتوب گرامی ملے۔اگر چہ میرا دل مطمئن اور حقانیت خلافت پر مضبوطی سے قائم تھا۔لیکن پھر میں نے ان بزرگوں کی خواہش کے مطابق اپنے ایمان کی سلامتی کو مدنظر رکھ کر احمد یہ بلڈنگس سے نقل مکانی کا ارادہ کیا اور چونکہ حضرت مولانا صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا تھا کہ آپ قادیان آجائیں۔ہم نے اب مدرسہ احمدیہ کے ساتھ مولوی فاضل کلاس کو ملحق کر لیا ہے۔اور دو تین طالب علم اس میں داخل بھی ہو گئے ہیں اس طرح ان بزرگوں نے میرے ایمان کی حفاظت کی نہایت مشفقانہ کوشش کی۔ایک ہفتہ کے اندر اندر خاکسار قادیان دارالامان چلا آیا اور جماعت مولوی فاضل میں داخل ہو گیا۔یہ ۱۹۱۷ء کی بات ہے۔اس وقت مولوی فاضل کلاس میں جو طالب علم پڑھتے تھے وہ صاحب غرض قسم کے تھے جب ان کا داخلہ یونیورسٹی کو بھجوایا گیا اور ان کو یقین ہو گیا کہ اب ہم لاہور جا کر امتحان مولوی فاضل میں شریک ہوسکیں گے تو وہ فرار ہو گئے اور پتہ نہیں لگا کہ کہاں چلے گئے۔امتحان کے ایام میں وہ تینوں مجھے کو لاہور میں ملے۔میں نے ان کو شرمندہ کیا خدا کی قدرت وہ تینوں بے وفاء اس سال امتحان مولوی فاضل میں فیل ہو گئے۔امتحان کے بعد میں نتیجہ کے انتظار میں مہمان خانہ میں اقامت پذیر تھا ان دنوں میں بعارضہ بخار بیمار پڑا ہوا تھا کہ اچانک لاہور سے کسی دوست کا کارڈ میرے نام مدرسہ احمدیہ میں آیا۔کسی طالب علم نے وہ کارڈ پڑھ لیا اور چونکہ اس خط میں میری کامیابی کا ذکر تھا۔حضرت مولانا کو جو مدرسہ میں پڑھا رہے تھے، خط دکھایا تو اپنے ایک شاگرد کی کامیابی کی خوشی میں سرشار ہو کر اپنے عمامہ کو میز پر چھوڑ کر ننگے سر چند طلباء کی معیت میں خاکسار کے پاس از راہ محبت و شفقت کمرہ میں اچانک تشریف لے آئے اور محبت آمیز لہجہ میں مبارک باد دی کہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو گئے ہیں۔ایک طرف تو خدا تعالیٰ کے فضل واحسان کے جذ بہ سے متاثر ہو کر اور دوسری طرف باپ سے بڑھ کر ایک مہربان بزرگ استاد کی شفقت کا نظارہ ہمدردی دیکھ کر میری آنکھیں پرنم