اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 382 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 382

۳۸۷ کے سامنے ہوتے ہوئے ڈر بھی آتا تھا۔تیسرے روز حضرت مولوی صاحب جامعہ میں مجھ سے ملے اور نہایت شفقت سے فرمانے لگے۔”میاں تم نے آنا ہی چھوڑ دیا۔میں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے تو نہیں نکالا تھا۔آیا کرو۔میں نے تمہارے لئے بہت دعا کی تھی۔جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت مولوی صاحب نے یہ بھی فرمایا 66 کہ جب میں طالب علم سے خفا ہوتا ہوں یا سزا دیتا ہوں تو اس کے لئے ضرور دعا کرتا ہوں۔شاگردوں سے پدرانہ شفقت جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد کی بات ہے کہ ایک دفعہ مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مولوی صاحب کی طبیعت علیل ہے، میں عیادت کے لئے حاضر ہوا۔میرے ساتھ ایک اور دوست بھی تھے جو حضرت مولوی صاحب کے ماتحت دفتر میں کام کرتے تھے۔مزاج پرسی کے بعد وہ دوست حضرت مولوی صاحب کے پاؤں دبانے لگ گئے انہیں دیکھ کر میں بھی آگے بڑھا لیکن حضرت مولوی صاحب نے مجھے روک دیا اور فرمایا یہ تمہارا کام نہیں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔”اکرموا اولادکم“ کہ اولاد کی عزت کیا کرو۔شاگر د بھی بمنزلہ اولا د ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرت مولوی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجات جنت الفردوس میں بلند کرے۔اور آپ کی اولاد اور شاگردوں کو آپ کے نقش قدم پر چلنے اور آپ کی نیک صفات کے وارث بنے کی توفیق بخشے۔آمین۔-۱۶ از اخویم مولوی عبد الکریم صاحب جہلمی فاضل انگلش ٹیچر بمقام ڈومیلی ضلع جہلم۔۱۹۲۵ ء یا ۱۹۲۶ء کی بات ہے کہ حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مدرسہ احمدیہ کے اپنے تین طلباء کو یعنی مجھے اور غالباً مولوی سلیم اللہ صاحب ( حال اوکاڑہ) اور مولوی ناصرالدین صاحب کو اپنے مکان پر بلوایا اور ایک عریضہ پڑھ کر سنانا شروع کیا۔جو آپ نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں تحریر کیا تھا۔اس کا مفہوم اب تک مجھے اچھی طرح یاد ہے اور عریضہ سناتے ہوئے حضرت مولوی صاحب نے اپنی قلبی کیفیت اور عقیدت کا جو منظر پیش کیا تھاوہ کبھی فراموش نہیں ہوسکتا۔حضرت مولوی صاحب کی تحریر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ مولوی صاحب کو یہ معلوم ہوا تھا کہ بعض شرانگیز افراد نے حضرت صاحب تک یہ رپورٹ پہنچائی ہے کہ مولوی صاحب نظام سلسلہ اور مقام خلافت کے وقار کے منافی باتیں کرتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اس الزام کے جواب میں جس والہانہ محبت اور مخلصانہ