اصحاب احمد (جلد 5) — Page 364
۳۶۹ از اخویم محمد علی صاحب المعروف نجومی سابق ساکن فیض اللہ چک ضلع گورداسپور ) ہیں چھپیں سال پہلے کی بات ہے کہ ہم مغرب کی نماز کے انتظار میں مسجد مبارک کی چھت پر بیٹھے تھے۔میں حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔خادم مسجد نے آکر حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔اس پر آپ نے نماز پڑھائی۔نماز ختم ہوتے ہی علم ہوا کہ حضور نماز کے لئے تشریف لائے تھے۔چنانچہ پچھلی صف میں بقیہ حصہ نماز پڑھ رہے ہیں۔یہ معلوم ہونے پر مولوی صاحب کانپنے لگ گئے۔اور میرے باز وکوزور سے پکڑ کر فرمانے لگے کہ آپ میرے پاس کھڑے تھے آپ کے سامنے آکر خادم نے اطلاع دی کہ حضور نے نماز کے لئے اجازت دی ہے۔بندہ نے عرض کیا کہ درست ہے فرمایا کہ بغیر حضرت صاحب کے دریافت کرنے کے آپ حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کریں کہ خادم نے آکر میرے روبرو کہا ہے کہ حضور نے مولوی صاحب کو نماز کی اجازت دے دی ہے۔چنانچہ میں نے نہایت ہی ادب سے عرض کیا تو حضور نے سکون اور محبت سے فرمایا کہ مولوی صاحب کے لئے کسی شہادت کی ضرورت نہیں۔اللہ اللہ ! حضرت مولوی صاحب کے دل میں حضور کے مقام خلافت کا کس قدر رعب اور ادب تھا۔اور پھر حضور کے دل میں آپ کی کس قدر عزت تھی کہ فرمایا مولوی صاحب کے لئے کسی شہادت کی ضرورت نہیں۔پھر ایک دفعہ حج کے دن حضور بوجہ تکلیف صبح کی نماز میں تشریف نہ لا سکے۔تو حضرت مولوی صاحب نہایت افسوس سے فرمانے لگے۔آج حج کا دن تھا بہت اشتیاق تھا کہ آج حضرت صاحب تشریف لا کر نماز پڑھاتے۔۱- از اخویم مولوی خلیل الرحمن صاحب فاضل مدرس مقیم پیشاور ( جو میرے ہم جماعت ہیں ) حضرت مولوی صاحب مرحوم قرآن کریم کے علم تجوید و قرات سے بخوبی واقف تھے اور ہمیشہ قرآت کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھا کرتے تھے۔اور آپ کی قرآت سے مقتدیوں کو ایک خاص وجد اور لطف آتا تھا۔فرماتے تھے کہ جب میں دارالعلوم دیو بند میں تعلیم پاتا تھا۔تو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مجھ سے منطق فلسفہ اور فقہ کی کتب پڑھا کرتے تھے۔پادری عبدالحق صاحب جو مشہور عیسائی عالم اور مناظر ہیں آپ کی علمیت اور قابلیت کے قائل ہیں۔چنانچہ پادری صاحب علاقہ بیٹ کے موضع بھینی پسوال میں مولوی ابوالعطاء صاحب