اصحاب احمد (جلد 5) — Page 360
۳۶۵ اور اس پر نہ معلوم کتنا عرصہ حضرت خلیفتہ امی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت مولوی صاحب نے مسجد مبارک میں امامت کرائی ہے۔فالحمد لله علی ذالک۔- از اخویم حاجی محمد ابراہیم صاحب خلیل ( سابق مجاہد ائلی۔افریقہ۔حال ہیڈ ماسٹر احمد یہ سکول بشیر آباد۔سندھ ) مجھے ۱۹۱۲ء سے ۱۹۲۲ء تک بطور طالب علم و معلم مدرسہ قادیان میں قیام کا موقع ملا۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب فرض نمازوں کی ادائیگی میں کوئی آدھ گھنٹہ لگاتے تھے۔آپ خاندان حضرت مسیح موعود کے فدائی تھے۔آپ کا زندگی کا ہر شعبہ قابل تعریف تھا۔آپ کی دیانت۔امانت۔تقویٰ غرضیکہ ہر نیکی میں دوسروں کے لئے مثال تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اعلی علیین میں جگہ دے۔آمین۔- ازاخویم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی ( مقیم بمبئی) حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو میں نے قادیان میں اس وقت سے دیکھا جب میں اپنی عمر کے لحاظ سے اس دور میں داخل ہو چکا تھا جب بچے گھر کی چاردیواری سے باہر نکل کر گلی محلوں میں کھیلنے کودنے کو نکلنا شروع کرتے ہیں۔مولوی صاحب کا مقام رہائش بھی ہر چند ہمارے مکان کے قریب ہی رہا۔اور گا ہے گاہے اپنی والدہ کے ساتھ حضرت مولوی صاحب کے گھر جانے کا مجھے بچپن میں اتفاق ہوا کرتا تھا۔ماسوا آپ کے پیچھے نمازیں ادا کرنے یا جمعہ پڑھنے کے میرا اور کوئی ذاتی تعلق آپ سے نہیں رہا۔لیکن آج سے پچاس سال قبل قادیان جیسی بستی جو یقیناً اس بستی سے زیادہ وسیع نہ تھی۔جس میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام بود و باش رکھتے تھے۔مختصری آبادی اور گنے چنے ہوئے لوگ جن کو ہر روز دیکھنے کا اتفاق ہو تو یہ بھی ناممکن ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں۔ایک دوسرے کے کردار اور شخصیت سے واقف نہ ہوں۔چہ جائیکہ ایک ہی طبقہ یا جماعت کا تعلق بھی ہو۔اگر لالہ ملا وامل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں اپنے تاثرات بتا سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ یوسف علی عرفانی حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کے بارے میں کچھ کہنے کا حق نہ رکھتا ہو۔لہذا میں بھی اپنے اس حق کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔میں حضرت مولوی صاحب کو اپنی آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا دیکھتا تھا۔اپنے پڑوس میں ان کو مقیم پاتا تھا