اصحاب احمد (جلد 5) — Page 359
۳۶۴ دیتے۔آپ کا طریق تعلیم بہت عمدہ تھا۔بعض دفعہ کہانیوں یا اچھی قسم کے لطائف سے آپ سبق کو آسان کر دیتے۔آپ کی طرز تفہیم بہت اچھی تھی۔آپ وقت کے بہت پابند تھے۔اور طلباء پر آپ کا ضبط اچھا تھا۔آپ کا علم کیا تھا قدرت کا عطیہ تھا۔مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب مولوی فاضل بی۔اے وکیل التبشیر میرے ہم جماعت وہم جلیس تھے۔ہمارے دیگر اساتذہ حضرت میر محمد الحق صاحب۔حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل محترم مولوی ارجمند خان صاحب اور محترم حافظ مبارک احمد صاحب تھے۔ان بزرگوں کی تعلیم و تربیت سے بہت سے طلباء اعلائے کلمتہ اللہ کے قابل بنے اور کئی ایک دنیوی اعزاز بھی حاصل ہوئے۔آپ اپنی منفر دانہ نمازوں کے علاوہ فرض نمازیں بھی لمبی پڑھاتے تھے۔آپ مسجد مبارک میں نماز کے وقت سے بہت پہلے آجاتے۔اور نماز کے بعد بھی معلومات دینیہ اور مسائل کی افہام و تفہیم کے لئے آپ بہت دیر تک مسجد میں ٹھہرے رہتے۔آپ پہلی صف میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے بالکل پیچھے ہوتے۔جب حضور بعد نماز مسجد میں ٹھہرتے اور احباب کی طرف متوجہ ہوتے تو مولوی صاحب بالکل سامنے ہوتے۔کبھی حضور آپ سے مخاطب ہوتے اور کبھی آپ کوئی بات حضور سے دریافت کر لیتے اور ایک رومال سے حضور کے چہرہ مبارک سے مکھیاں اڑاتے رہتے۔آخری عمر میں آپ قرآن شریف حفظ فرماتے تھے۔چنانچہ نماز فجر کے بعد مصر کا مطبوعہ چھوٹا قرآن مجید ہاتھ میں لئے عموما آپ بہشتی مقبرہ چلے جاتے۔آپ کی بینائی آخری عمر تک بہت اچھی تھی۔آپ لباس اچھا گرم پہنتے تھے۔آپ مگدر کے ساتھ ورزش بھی کرتے تھے۔گھر میں آپ کو گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے بھی دیکھا ہے۔آپ کو اپنی اولاد سے بہت محبت تھی اور ان کا بہت خیال رکھتے تھے۔آپ کی دونوں صاحبزادیاں آپا حلیمہ بیگم اور آپا سلیمہ بیگم آپ سے قرآن مجید باتر جمہ اور با تفسیر پڑھتی تھیں۔آپ دکن کے دورہ کے وقت یاد گیر بھی تشریف لائے۔اس وقت بڑھاپے میں بھی آپ کے قومی بہت مضبوط تھے۔چنانچہ آپ یاد گیر کے قلعہ پر بھی چڑھے تھے۔جو بہت بلند ہے جس پر جوان آدمی کا چڑھنا بھی دشوار ہے۔آپ جڑی بوٹیوں کے بہت ماہر تھے بوٹی کی کنہ تک پہنچتے اور اس کی تشریح فرماتے۔فرماتے تھے کہ اس قلعہ پر بھی بعض ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جو دوسری جگہ کم ملتی ہیں۔میں مساجد قادیان کے لئے دکن سے نئی جانمازیں بنوا کر لے جاتا تھا۔ایک دفعہ میں عمدہ قسم کی جائے نماز مسجد مبارک کے لئے لے کر گیا تو آپ بہت خوش ہوئے میں نے عرض کی کہ مسجد مبارک کا امام والا مصلے مجھے عنایت فرمائیے۔تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر میرے حوالہ کر دیا۔جو اس وقت بھی میرے پاس موجود ہے