اصحاب احمد (جلد 5) — Page 328
۳۳۲ آپ کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔یہ حالت ان کی قابلیت کے معیار کے کسی حد تک مطابق تھی۔ظاہری لحاظ سے مدرسی تعلیم میں مولوی صاحب سب سے زیادہ ماہر فن تھے۔میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ درسی کتب کے بعض مشکل مقامات کے متعلق مولوی سید سرور شاہ صاحب سے فرماتے کہ آپ اس کا مطالعہ کر کے پڑھا ئیں مجھے اس کی مشق نہیں۔چنانچہ مولوی صاحب وہ مشکل مقامات طالب علموں کو پڑھاتے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے سیبویہ کتاب کے متعلق بھی مولوی صاحب کو فر مایا کہ اس کے بعض مقامات مجھ پر حل نہیں ہوئے۔اس لئے آپ یہ کتاب طالب علموں کو پڑھائیں۔ایسی ایک دو اور کتابوں کے متعلق بھی حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ یہ طالب علموں کو پڑھا دیں اور جب مولوی صاحب طالب علموں کو پڑھاتے تو حضرت خلیفہ اول بھی سنا کرتے۔غرض مولوی صاحب نے مدرسی تعلیم کو کمال تک پہنچا دیا تھا اور قدرتی طور پر ان کا دماغ بھی فلسفیانہ تھا۔جس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا جاتا خواہ وہ عام مسئلہ ہی ہوتا ، مولوی صاحب اسے فلسفیانہ رنگ میں خوب کھول کر بیان کرتے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ پوچھنے والے کو ان کے بیان کردہ فلسفہ سے اتفاق ہو یا نہ ہو مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا ہو اور انہوں نے اس کا فلسفیانہ رنگ میں جواب نہ دیا ہو۔آپ صرف یہی نہیں بیان کرتے تھے کہ فلاں نے اس کے متعلق یہ لکھا ہے اور فلاں کی اس کے متعلق یہ رائے ہے۔بلکہ یہ بھی بتاتے تھے کہ اس مسئلہ کی بنیاد کس حکمت پر مبنی ہے اور اس کے چاروں کو نے خوب نمایاں کرتے تھے اور پھر اس کی جزئیات کی بھی تشریح کرتے۔اس میں شک نہیں کہ مولوی صاحب کو لمبی بات کرنے کی عادت تھی اور وہ جذبات کو اپیل نہیں کر سکتے تھے اسی لئے ان کا لیکچر کا میاب نہیں سمجھا جا تا تھا۔تعلیم یافتہ طبقہ اور علم دوست طبقہ تو ان کی تقریر کو نہایت سکون کے ساتھ سنتا تھا لیکن پبلک دماغ ان کی تقریر سے متاثر نہیں ہوسکتا تھا۔صرف علمی طبقہ کے لوگ ہی جانتے تھے کہ آپ کے علم میں کتنی وسعت ہے اور کتنا تبحر آپ کو حاصل ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے آخری ایام میں ایک وفد باہر گیا اس وفد نے بعض ایسی باتیں کیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان اور آپ کے درجہ کے منافی تھیں۔چنانچہ جب وہ وفد واپس آیا تو یہ سوال میں نے اٹھایا کہ وفد کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان کے متعلق جو بیانات باہر دیئے گئے ہیں وہ آپ کی شان کے منافی ہیں اور آپ کے درجہ میں کمی کی گئی ہے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب بھی اس وفد میں شامل تھے۔جب انہوں نے اس بات کو سُنا تو انہوں نے کہا واقع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں کمی کی گئی ہے اور ہم سے چوک ہوئی ہے لیکن اس دن سے لے کر وفات تک مولوی صاحب