اصحاب احمد (جلد 5) — Page 293
۲۹۷ وفات کے متعلق حضور ایدہ اللہ تعالی کی رویا سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے ذیل کارڈ یا بمقام ڈلہوزی اوائل تمبر ۱۹۴۵ء میں دیکھا:۔فرمایا۔۲۳-۲۴ رمضان کی درمیانی رات کو رویا میں دیکھا۔کہ میں اپنے دفتر واقع قادیان میں ہوں اور ان سیٹرھیوں سے اتر رہا ہوں جو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف جاتی ہیں سیڑھیوں کی شکل بھی اس شکل سے جو واقع میں ہے مختلف معلوم ہوتی ہے۔موجودہ سیڑھیاں گول ہیں اور جن کو خواب میں دیکھتا ہوں وہ سیدھی ہیں اور اصل سیڑھیوں سے چھوٹی لگتی ہیں۔جب میں نیچے آیا تو میں نے دیکھا کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب کھڑے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک سفید لمبا لفافہ ہے جیسے دفتری لفافے ہوتے ہیں اس وقت مولوی صاحب اپنی موجودہ عمر اور جسمانی صحت کی حالت کی نسبت بہتر معلوم ہوتے ہیں۔کمر سیدھی ہے اور چہرے پر طاقت اور نضارت کے آثار ہیں۔میں نے اس لفافہ کو لے کر کھولا اور دفتر کے پاس کی گلی میں سے ہوتا ہوا احمد یہ چوک کی طرف چل پڑا۔اندر سے دو کاغذ نکلے ایک وصیت کا کاغذ ہے جو سفید خوبصورت اور فل سکیپ سائز سے کوئی اڑھائی گتے بڑا ہے۔کاغذ موٹا اور اس طرح کا ہے جیسے بنک یا اسٹاموں کے کاغذ ہوتے ہیں اور مطابق ۱ ۲ ستمبر بقیہ حاشیہ: - عید پر تیار کردہ فہرست میں آپ کی بیان کردہ عمر = ۶۰ سال تاریخ فہرست (جنوری ۱۹۳۵ء) تا وفات (جون ۱۹۴۷ء) میزان = = ۲ سال ۷۲ سال (۲) حضور ایدہ اللہ نے ۱۹۴۴ء میں آپ کی عمر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ستر سال کے قریب ہے۔۲۷۵ اور تین سال بعد آ پکی وفات ہوئی گو یا عمر ۷۳ سال بنی۔نوٹ:۔خاکسار کو اس امر کی خوشی ہے کہ ۱۹۴۷ء میں جو مختصر سوانح حضرت مولوی صاحب کے خاکسار کی طرف سے الفضل میں شائع ہوئے تھے وہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی نظر خیر اثر سے بھی گذرے حضور نے فرمایا: - الفضل میں ایک مضمون چھپا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی عمر 9 سال کی تھی۔‘ ۲۷۶ حضور کی مراداس بیان سے تصدیق وغیرہ نہ تھی صرف حضرت مولوی صاحب کی ضعیف العمری کا بیان کر کے نماز باجماعت میں با قاعدگی پر اظہار تحسین تھا تا احباب جماعت اس اسوہ سے متاثر ہو کر اس طریق پر عمل پیرا ہوں۔بانوے سال کی عمر حضرت مولوی صاحب کی طرف سے بیان کردہ میں نے درج کی تھی۔