اصحاب احمد (جلد 5) — Page 289
۲۹۳ بار زیادہ نقاہت ہونے کا علم ۱۸؍ فروری ۱۹۴۷ء کی بابت معلوم ہوتا ہے۔ظاہر ہے نقاہت ایک ہی روز لاحق نہیں ہوئی ہوگی تسلسل اور زیادتی کے باعث اخبار میں ایک عرصہ بعد اس کا ذکر آیا۔باوجود زیادہ نقاہت کے آپ ۱۸ فروری سے یکم جون تک گویا تین ماہ بارہ دن تک سیدنا حضرت صاحب کی مجلس عرفان میں شریک ہوتے رہے اور مجلس ہی میں آپ کو بیہوشی شروع ہوگئی اور پھر شفاخانہ میں داخل کرنا پڑا ہے محترم مولانا ارجمند خان صاحب فرماتے ہیں کہ وفات جمعہ کے روز ہوئی۔مولوی صاحب کی اہلیہ محترمہ دوسرے کمرہ میں تھیں میں آپ کے کمرہ میں ہسپتال میں اکیلا تھا۔قریب ڈیڑھ گھنٹہ تک قرآن مجید اور سورہ یس سنا تارہا اور میری موجودگی میں آپ کی وفات نہایت سکون کی حالت میں ہوئی۔الفضل میں زیرہ مدینہ مسیح ، ذیل کی خبریں شائع ہوئیں: - (بابت ۴۷-۲-۱۸) طبیعت علیل ہے۔نقاہت بہت ہے۔‘ (مورخہ ۴۷-۲-۱۹) (بابت ۴۷-۲-۲۲) نقاہت بہت ہوگئی ہے۔“ (۴۷-۲-۲۲) (بابت ۴۷-۳-۱) طبیعت نقاہت کی وجہ سے زیادہ ناساز رہتی ہے۔“ (۴۷-۳-۱) بابت ۴۷-۳-۶) طبیعت نقاہت کی وجہ سے علیل ہے۔“ (۴۷-۳-۷ ) بابت ۴۷-۳-۷ ، ۴۷-۳-۱۱) ” تاحال نقاہت کی وجہ سے علیل ہیں۔“ (۱۲۸ / مارچ) بابت ۴۷-۳-۱۲ ، ۴۷-۳-۱۹) نسبتاً افاقہ ہے۔“ (۴۷-۳-۱۳ ، ۴۷-۳-۲۰) (بابت ۴۷-۴-۷) حضرت مولوی سید محمدسرور شاہ صاحب کو نقاہت بہت زیادہ ہوگئی ہے۔“ (۴۷-۴-۸) (بابت ۴۷-۶-۲) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب شدید بیمار ہیں۔کل سے غشی طاری ہے۔آج شام تک کوئی افاقہ نہیں ہوا۔“ (۴۷-۶-۳) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ میں آپ کے متعلق فرمایا: - دو سینکڑوں آدمیوں نے دیکھا ہوگا کہ وہ روزانہ بلا ناغہ مجلس عرفان میں شامل ہوتے تھے حتی کہ وفات سے صرف دورات پہلے وہ مجلس میں آئے اور بیٹھے رہے ان کو مجلس میں ہی بیہوشی شروع ہوگئی۔اسی دن سے آپ پر بیہوشی طاری ہوئی اور آپ تیسرے دن فوت ہو گئے۔“ ۲۷۱ ۲۰ جنوری کو ایک مجاہد کے لئے مدرسہ احمدیہ میں منعقدہ الوداعی تقریب میں آپ نے دعا کرائی اور ۴ فروری کو حاجی محمد بخش صاحب جہلمی کا جنازہ مہمانخانہ میں پڑھایا۔حاجی صاحب بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔۷۲، غالبا یہ آخری تقریبات تھیں جن میں آپ نے شمولیت فرمائی۔