اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 261 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 261

۲۶۵ اب ان لوگوں نے خفیہ ریشہ دوانیاں شروع کر دیں۔مثلاً اظہار الحق نامی ٹریکٹ لاہور سے گمنام شائع کیا۔جس سے خلافت ، وصیت ، ظہور قدرت ثانیہ اور مصلح موعود کے متعلق منافقانہ انداز میں عتراضات اور وسوسہ اندازی کی گئی تھی۔انجمن انصار اللہ کے چالیس ارکان کی طرف سے ” خلافت احمدیہ کے نام سے نہایت مسکت جواب دیئے گئے اور خلافت اور انجمن کے تعلق میں بارہ سوالات تجویز کئے گئے تا کہ صدرانجمن احمد یہ کے ارکان جوابات دیں تا یہ امر مشتبہ نہ رہے بلکہ صاف ہو جائے۔سوالات کا خلاصہ یہ ہے کہ آیا آپ خلافت کے متعلق اپنے اعلان سے متفق ہیں۔حضرت اقدس کی تحریر جو انجمن کے اجتہاد کو کافی قرار دیتی ہے کیا اس کا یہ مفہوم ہے کہ خلیفہ کی بجائے انجمن جماعت کی حاکم اعلیٰ ہے۔کیا حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خلافت الوصیة کے مطابق ہے یا مخالف اور صدر انجمن حضور کی بوجہ خلیفہ ہونے کے اطاعت کرتی ہے یا بوجہ بزرگ ہونے کے۔کیا گھبرا کر یا مجبوراً آپ نے حضرت مولوی صاحب کی بیعت کی تھی۔یا اس خیال سے کہ جماعت بغیر خلیفہ کے قائم نہیں رہ سکتی۔کیا انہوں نے خلیفہ بننے کی خواہش کی تھی یا سر کردہ احباب نے اس بارہ میں اصرار کر کے عرض کیا تھا۔کیا حضور نے پہلی تقریر میں ہی یہ نہیں کہدیا تھا کہ بیعت کر کے میری کامل پیروی بلا چون و چرا کرنی پڑے گی۔کیا حضور نے پیر پرستی کو رواج دینے کی کوشش کی ہے۔کیا حضور نے سکھا شاہی کی طرز کا فتویٰ کسی فرد یا افراد کے اخراج کے متعلق دیا ہے۔ان کے جوابات ارکان صدر انجمن کی طرف سے موصولہ ضمیمہ خلافت احمدیہ کے نام سے شائع کئے گئے ہیں اظہار الحق نمبر ۲ بھی گمنام شائع کیا گیا۔جس میں اہلبیت حضرت مسیح موعود اور بزرگان سلسلہ پر نہایت رکیک اور گندے الزامات قائم کئے گئے۔ان تمہیں مفتر یا نہ وساوس و اعتراضات کے کافی وشافی جوابات انجمن انصار اللہ نے اظہار حقیقت“ کے نام سے شائع کئے۔* حضرت خلیفہ اول نے خلافت کے مخالف خیالات کے ابطال کے لئے سعی بلیغ فرمائی جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کے ذکر کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی رقم فرماتے ہیں :- Λ یہ ۳۴ صفحات کا کتابچہ ( سائز ۲۰×۲۶) انصار اللہ کی طرف سے ۲۳ نومبر ۱۹۱۳ء کو شائع ہوا۔تیسرے نمبر سے۲۳ پر آپ کا نام ”سید سرور شاہ مدرس اعلیٰ مدرسہ احمدیہ درج ہے۔(ص۳۴) یہ ضمیمہ اسی سائز پر بارہ صفحات کا ہے شائع کنندہ کا آخر پر نام غالبا سہواً طبع ہونے سے رہ گیا ہو گا۔دو نسخوں پر قلمی سیاہی سے ” المشتہر حافظ روشن علی سیکر ٹری انصار اللہ کے الفاظ مرقوم میں نے دیکھے ہیں۔یہ کتابچه مشتمل بر چوبیس صفحات ( سائز ۲۲×۲۰ ) ۱۳-۱۱-۲۸ کو چالیس ارکان کی طرف سے شائع ہوا خلافت احمدیہ کی طرح آپ کا نام تیسرے نمبر پر درج ہے۔*