اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 249 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 249

۲۵۳ " مجھے سمجھ آگئی ہے اور ان کو ( مولوی محمد علی صاحب کو ) نہیں آئی۔مرزا صاحب نے تمہاری سلطنت قائم کر دی نہ صرف ملکانہ بلکہ مالکانہ حقوق و اختیارات قائم کر دئیے ہیں اب اس سے فائدہ اٹھانا آپ کی عقلمندی اور حسن تدبیر پر منحصر ہے مرزا صاحب نے اپنا کام کر دیا۔اب یہ آپ کا کام ہے کہ اس کو ورثہ وگڑی نہ بننے دیں اور کما حقہ فائدہ حاصل کریں۔“ ۲۳۲ گویا ۱۹۰۵ء میں حضور کے وصال سے تین سال قبل یہ افراد حکومت اور اختیار و اقتدار کے خواب دیکھ رہے تھے اور یہ بھی سمجھتے تھے کہ حضور کی اولاد میں سے کوئی جانشین ہو گا اور یہ پس منظر یقیناً پیشگوئیوں کی وجہ سے تھا لیکن ادھر سے ان کے قلوب حسد و بغض کے باعث دوسری طرف منعطف ہو کر کچھ اور ہی سوچنے لگے تھے۔بلکہ یہ لوگ حضور پر نکتہ چینی بھی کرتے تھے اور حضور ان سے آزردہ تھے۔چنانچہ حضرت اقدس خود رقم فرماتے ہیں کہ فلاں شخص نے مجھے لکھا ہے کہ کئی قسم کا اسراف ہوتا ہے اس لئے فلاں جماعت یہ چاہتی ہے کہ حضور رو پید اپنے پاس نہ رکھیں بلکہ ایک کمیٹی کے سپر د ہو جو اسے حسب ضرورت خرچ کرے۔حضور فرماتے ہیں کہ میں اللہ تعالی کی قسم دیتا ہوں جس کا پورا کرنا فرض ہے کہ ہم ان لوگوں کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور فرمایا :- ان پر حرام ہے اور قطعا حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے سلسلہ کی مدد کے لئے اپنی تمام زندگی تک ایک جبہ بھی بھیجیں۔جو شخص مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابل برداشت نہیں۔۔۔۔ایسا اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔‘ ۲۳۳ اس تحریر کی کسوٹی پر ہم ان لوگوں کو بآسانی پر کھ سکتے ہیں۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اپنے رسالہ ”کشف الاختلاف میں مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ گجرات سے موضع کڑیانوالہ کو جاتے اور واپس آتے ٹانگہ کے بتیس چھتیں میل کے سفر بھر میں خواجہ کمال الدین صاحب نے آپ کو مخاطب کر کے میری موجودگی میں حضرت اقدس پر مالی اعتراضات کرتے ہوئے کہا : - پہلے ہم اپنی عورتوں کو یہ کہہ کر کہ انبیاء اور صحابہ والی زندگی اختیار کرنی چاہئے کہ وہ کم اور خشک کھاتے اور خشن پہنتے تھے اور باقی بچا کر اللہ کی راہ میں دیا کرتے تھے۔اسی طرح ہم کو بھی کرنا چاہئے۔غرض ایسے وعظ کر کے کچھ روپیہ بچاتے تھے اور پھر وہ قادیان بھیجتے تھے۔لیکن جب ہماری بیبیاں خود قادیان گئیں وہاں پر رہ کر اچھی طرح وہاں کا حال معلوم کیا تو واپس آ کر ہماے سر چڑھ گئیں کہ تم بڑے جھوٹے ہو۔ہم نے تو