اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 229 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 229

۲۳۳ حاصل ہوا۔اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) کے دو نکاحوں کے بقیہ حاشیہ: - (۱۰) ۱۹۳۸ ء رکن سب کمیٹی نظارت علیا و نظارت بیت المال (ص۱۲) (۱۱) ۱۹۳۹ء سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کے آپ سیکرٹری اور حضرت مولوی شیر علی صاحب صدر تھے۔تجویز زیر غور یہ تھی کہ وصیت کے لئے جائداد کا معیار مقرر ہونا ضروری ہے۔(ص۲۲٬۲۱،۱۹) (۱۲) ۱۹۴۰ ء سب کمیٹی بہشتی مقبرہ کے آپ سیکرٹری اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب صدر مقرر ہوئے۔یہ امور زیر غور آئے کہ ایک شخص مقامی جماعت کے سپر داپنی وصیت کر دیتا ہے لیکن مقامی جماعت کی غفلت سے مرکز میں اس کی وفات تک نہیں پہنچتی۔وصیت ہر طرح سے مکمل ہے۔کیا اسے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے ( منظور کرنے کا فیصلہ ہوا ) پنشن کمپیوٹ ہونے پر اسے آمد قرار دیا جائے یا جائیداد۔فیصلہ ہوا کہ اسے آمد سمجھا جائے اور اس کا حصہ آمد اسی وقت وصول کیا جائے سوائے اس کے کہ اس سے موصی کو نقصان پہنچتا ہو مثلاً جتنی رقم کمیوٹ ہو کر ملے اسی قدر رقم کی ڈگری قابل ادا ہو۔ایسے حالات میں موصی دفتر وصیت سے سمجھوتا کر لے اور اتنا حصہ آمد اس کے ذمہ قرض ہوگا۔(ص ۶۱ تا ۷۳ ) (۱۳) ۱۹۴۱ء بیت المال و بہشتی مقبرہ کی مشترکہ سب کمیٹی مقرر کی گئی آپ اس کے رکن تھے۔(ص۶۳۱۰) تجویز پیش تھی کہ گھوڑی پال مربعے نہ ملکیت ہوتے ہیں نہ انہیں فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے اس لئے انہیں جائیداد قرار نہ دیا جائے۔فیصلہ ہوا کہ یہ اور اس قسم کی دیگر ملکیتیں جن کے مالک کو ان کے منتقل کرنے کا اختیار نہ ہو وصیت کی اغراض کے لئے جائداد متصور نہ کی جائیں۔(ص۶۸) (۱۴) ۱۹۴۲ء نظارت علیا، نظارت تالیف و تنصیف اور صیغہ بہشتی مقبرہ کے متعلق ایک مشتر کہ سب کمیٹی تجویز ہوئی جس کے آپ بھی رکن تھے۔(ص۳) (۱۵) ۱۹۴۳ء نظارت بیت المال وصیغہ بہشتی مقبرہ کی ایک مشترک سب کمیٹی تجویز ہوئی جس کے آپ رکن تھے۔(ص۱۳،۱۲) ایک تجویز یہ زیر غور آئی کہ موصی نصف سال تک چندہ ادا نہ کرے تو اس کی وصیت منسوخ کی جاتی ہے لیکن چندہ وصول کرنے والے یا تو کئی ماہ تک مرکز میں چندہ نہیں بھجواتے یا دیگر مدات میں بھجوا دیتے ہیں۔عدم اطلاع کے باعث صیغہ بہشتی مقبرہ بقایا سمجھ کر نوٹس دے دیتا ہے جس سے پریشانی پیدا ہوتی ہے۔سیکٹر یان مال کی اکثریت نے وعدہ کیا کہ وہ گذشتہ ماہ کا نقشہ وصولی از موصیان تیار کر کے بھجوا دیا کریں گے۔(ص ۸۴ تا ۸۷ )