اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 227 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 227

۲۳۱ خطبات جمعہ، عیدین، نکاح ، جلسہ سالانہ میں اور دیگر مواقع پر تقاریر۔- بقیہ حاشیہ:- سال مع حوالہ (۱۷) ۴۳-۱۹۴۲ء ڈاک آمد روانگی آمد سالانه آمد دو ہزار چٹھیاں دولا کھ اٹھارہ ہزار روپیہ رپورٹ سالانہ ص ۷ ۷ تا ۸۱) روانگی سوا سات ہزار ( بجٹ سے پچپن ہزار زائد ) (۱۸) ۴۵-۱۹۴۴ء ( رپورٹ سالانہ ص ۱۰۱) چٹھیاں آمد ساڑھے چھ ہزار پونے چار لاکھ روپیہ چٹھیاں بجٹ سے قریباً ایک لاکھ روانگی پونے پندرہ ہزار روپیہ زیادہ) چٹھیاں اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمگیر جنگ دوم کے دوران میں خشیت اللہ قلوب پر زیادہ طاری ہوئی۔اس مشتمل ہے۔عرصہ میں احمدیت میں داخلہ اور موصیوں کی تعداد میں اضافہ تیز ہوا اور ادائیگیوں میں بہت زیادتی ہوئی لیکن جنگ کا آغا ز تو ستمبر ۱۹۳۹ء میں ہوا۔مجھے صرف اس امر کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ( گو بعض دیگر عوامل بھی کارفرما تھے اور ہمیشہ ہوتے ہیں ) آپ کی توجہ اور محنت سے اس صیغہ کی آمد یوم فیو ماً بڑھتی رہی۔چنانچہ ۳۳-۱۹۳۲ء میں جو آمدا کا نوے ہزار تھی وہ چھ سال میں سال مختمہ اپریل ۱۹۳۹ء میں ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ گئی۔حالانکہ اس زمانہ میں اجناس کی قیمت بہت گر گئی تھی اور جماعت احمدیہ کا اکثر حصہ زمینداروں پر مشتمل (ج) ۳۱-۱۹۳۰ء اور ۳۲-۱۹۳۱ء میں صیغہ تعمیر وصیغہ جائداد کے فرائض بھی صیغہ بہشتی مقبرہ کے سپر د تھے۔افسر تعمیر حضرت سید ناصر شاہ صاحب تھے (۳۱-۱۹۳۰ء کی سالانہ رپورٹ میں صیغہ تعمیر کی رپورٹ صیغہ بہشتی مقبرہ کی رپورٹ کے معا بعد لیکن نظارت علیا کی رپورٹ سے قبل درج ہے ( ص ۱۰۲ ۱۰۳) گویا اس وقت بھی صیغہ تعمیر بہشتی مقبرہ سے ملحق تھا نہ کہ نظارت علیا سے اور رپورٹ ۳۲-۱۹۳۱ء میں بالوضاحت یہ امر مرقوم ہے کہ یہ صیغہ قائم ہوئے دوسرا سال ہے۔صیغہ ہائے تعمیر و پراویڈنٹ فنڈ اس کے ساتھ شامل کر دیئے گئے تھے (ص۸۲) گویا بہشتی مقبرہ سے علیحدگی ہو چکی تھی ) (د) شوری میں شرکت: - آپ شوری کے آغاز (۱۹۲۲ء) سے تا وفات ہر ایک اجلاس میں شرکت فرماتے رہے۔اولین شوری میں باون بیرونی اور تمہیں مرکزی نمائندگان نے شمولیت کی تھی۔دراصل ہر صیغہ