اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 205 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 205

۲۰۹ لگائے جاسکیں گے۔ان میں سے بعض ہی لگ سکیں گے لیکن ان میں سے ہر ایک اپنا یہ مقصد اور غایت قرار دے سکتا ہے کہ وہ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد اسلام کی اشاعت کے لئے کام کرے گا۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ انسان مبلغ ہی ہو۔پہلے بھی اسلام اسی طرح پھیلا تھا۔حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمر نے اپنا کاروبار نہ چھوڑ دیا تھا۔وہ اپنے کام بھی کرتے اور ساتھ ہی اشاعتِ اسلام میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد بھی کرتے تھے۔تو ہو سکتا ہے کہ جامعہ کے بعض طلباء کو تبلیغ کے کام پر نہ لگایا جا سکے ان میں بطور مبلغ تبلیغ کرنے کی قابلیت نہ ہو یا کوئی اور مجبوریاں ہوں۔ان تمام صورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ کے طلباء کو ایک ہی مقصد اپنی زندگی کا قرار دینا چاہئے اور وہ تبلیغ اسلام ہے۔خواہ عمل کے کسی میدان میں جائیں کوئی کام کریں۔اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کو نہ بھولیں ہو سکتا ہے کہ اس طرح کام کرنے والوں میں سے بعض سے زیادہ عمدہ طور پر تبلیغ کا کام کریں۔پس ان کو ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہیئے اور وہ تبلیغ اسلام ہے اور ان کا یہی موٹو ہونا چاہیئے کہ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونِ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً ۖ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلَّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِى الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُو إِلَيْهِمُ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُون - میرے نزدیک ان آیتوں کو لکھ کر کالج میں لگا دینا چاہیئے تا کہ طالب علموں کی توجہ ان کی طرف رہے اور انہیں معلوم رہے کہ ان کا مقصد اور مدعا کیا ہے۔اس کے بعد میں تمام دوستوں سے جو یہاں جمع ہوئے ہیں ، خواہش کرتا ہوں کہ میرے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اس جامعہ میں برکت دے اور ان طالب علموں کے لئے جن سے ہماری بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔جن کے چہروں سے ہم اپنا مستقبل پڑھتے ہیں انہیں اس سفر میں جو ماریشس اور امریکہ جانے والے مبلغوں سے بھی لمبا ہے کیونکہ یہ چند دن کا سفر ہے مگر ان کا زندگی بھر کا بلکہ اس زندگی سے بعد کا بھی سفر ہے اس میں خدا تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو اور انہیں تو فیق عطا کرے کہ جو مقصد اور مدعا انہوں نے اس کے حکم کے ماتحت چنا ہے اور حکم بھی وہ جو آخری حکم ہے اور