اصحاب احمد (جلد 5) — Page 198
ہوں اور سمجھتا ہوں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔میں نے خود بھی ان کی نصائح کرنے میں فائدہ اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ جب میں تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو بولنے کی طاقت نہ تھی ، حرارت تھی، متلی ہو رہی تھی اور سر درد کی شکایت تھی۔مگر تقریر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور اب سوائے سر درد کے باقی آرام ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جس طرح میں نے نصائح کرنے میں فائدہ اٹھایا ہے اسی طرح مبلغین ان کے سننے سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن اس دوسری تقریب کے متعلق جو مدرسہ احمدیہ نے ترقی کر کے جامعہ قائم ہونے کی کی ہے، کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کے کام وہ آپ ہی کرتا ہے اور ایسی راہوں سے وہ اپنا کام کرتا ہے کہ انسان کے ذہن ، فکر اور واہمہ میں بھی وہ نہیں آتیں۔وہ وہاں سے سامان جمع کرتا ہے جہاں سے انسان کو امید ہی نہیں ہوتی اور وہاں سے نتائج پیدا کرتا ہے۔جس طرف انسان کی نظریں نہیں اٹھ سکتیں۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ تمام کاموں کے لئے اس نے کچھ قواعد رکھے ہوئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کے کمال کے لئے ایک نظام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بہت لوگوں نے خدا تعالیٰ کے صفات پر غور کر کے صفات کے مفرد پہلو پر غور کیا ہے لیکن ان کے اجتماعی پہلو پر انہوں نے غور نہیں کیا۔وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ رب، رحمن، رحیم، مالک يوم الدین ہے مگر یہ غور نہیں کرتے کہ یہ تمام صفات ایک نظام کے اندر ہیں اور ہر ایک صفت دوسری صفت کے دائرہ کو قطع نہیں کرتی۔جب یہ معلوم ہو گیا کہ ہر ایک صفت اپنے دائرہ میں چلتی ہے تو لازما یہ بھی مانا پڑتا ہے کہ کمال کی صفات میں سے ایک نظام کی صفت بھی ہے۔یعنی نظام کا کامل ہونا بھی اس کی صفات میں سے ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے میری سنت تبدیل نہیں ہوتی اور جہاں خدا تعالیٰ باوجود طاقت کے فرماتا ہے میں ایسا نہیں کروں گا۔پھر وہ نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفی میں بھی قدرت پائی جاتی ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اپنے متعلق کیوں یہ فیصلہ کرتا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔پس جس طرح کوئی بات کرنا خدا تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتا ہے اسی طرح موقع اور محل کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی فعل نہ کرنا بھی خدا تعالیٰ کی قدرت پر