اصحاب احمد (جلد 5) — Page 196
۲۰۰ اسٹنٹ مینجر اور ہیڈ ماسٹر کے فرائض تفویض کئے گئے (سالانہ نتیجہ اچھا رہا۔فالحمد للہ مزید یہ بیان کیا گیا ہے کہ امسال مدرسہ احمدیہ میں بہت بڑا تغیر واقع ہوا ہے یعنی حضور نے جماعت کی ضرورت کو مد نظر رکھ کر اور یہ محسوس کر کے کہ ان ضروریات کو سوائے مدرسہ احمدیہ کے اور کوئی ادارہ پورا نہیں کر سکتا۔اس کی طرف خاص توجہ فرمائی اور اسے ترقی دینے اور زیادہ کارآمد بنانے کے لئے پہلی سکیم پر غور کرنے کے لئے آٹھ ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی تا کہ جو طلباء مدرسہ احمدیہ سے نکلیں وہ ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام بیرونی ممالک میں تبلیغ کر سکیں اور ساتھ ہی ایک کالج بھی کھول دیا جائے۔غور کر کے دوماہ میں ایک سکیم تیار کی گئی جو حضور کی منظوری سے جاری کر دی گئی۔عربی علوم کے ساتھ میٹرک کے معیار کی انگریزی، حساب ، جغرافیہ، سائنس اور اردو کو نصاب میں شامل کیا گیا۔مولوی فاضل کی جماعت پہلے سے جاری ہے۔جس کا نصاب یو نیورسٹی والا ہے تو جامعہ احمدیہ کا افتتاح ۲۰ مئی ۱۹۲۸ء کو صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی اور خان محمد یوسف صاحب جہلمی امریکہ اور حافظ جمال رپورٹ سالانہ بابت ۲۰ - ۱۹۱۹ء (ص ۱۴ ، ۱۵) اس سے پہلے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب افسر تھے۔( ص ۲۲ ، رپورٹ سالانہ بابت ۱۹ - ۱۹۱۸ء ص ۱۴) اور مولوی صاحب ۱۸-۱۹۱۷ء میں مدرس اعلیٰ تھے۔اس وقت کل تیرہ اساتذہ اور ۶۷ طلباء تھے۔(رپورٹ سالانہ ص ۲۳ ۲۴) آپ کو ۱۹۱۸ء میں نائب افسر مدرسہ احمدیہ اور ۱۹۱۹ ء میں عارضی طور پر افسر مدرسہ مقرر کیا گیا تھا۔( رپورٹ سالانہ ۱۹- ۱۹۱۸ء ص ۱۵-۱۴) یہ بھی مرقوم ہے کہ آپ فارغ التحصیل مدرسہ دیوبند۔تجربہ کار اور فاضل گر مدرس ہیں۔“ ( ص ۴۱) حسب سابق یو نیورسٹی کی طرز سے امتحان لیا گیا۔چنانچہ امتحان لینے کے لئے خلیفہ رشید الدین صاحب ، مولانا عبدالماجد صاحب بھاگلپوری اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل پر مشتمل سب کمیٹی مقرر کی گئی تھی۔جنہوں نے بھا گلپور، کٹک اور پشاور تک سے پرچے تیار کروائے۔ہے حضرت مولوی صاحب ، حضرت میر محمد اسحاق صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت ماسٹر محمد دین صاحب ( حال ناظر تعلیم ربوہ ) بھی نصاب بنانے والی کمیٹی کے ارکان تھے۔۱۴۳ فیصلہ مجلس معتمدین صدرا انجمن احمد یہ نمبر ۱۳۷اغ ، مورخ ۲۲-۴-۱۸ کی رو سے آپ طلباء مبلغین کو دو گھنٹے روزانہ پڑھانے پر مقرر ہوئے۔