اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 195 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 195

۱۹۹ اسلامی مدارس کے طریقہ تعلیم ، نصاب اور انتظام کا مطالعہ کریں۔حضرت خلیفہ امسیح اول کو اس امر کا پہلے ہی خیال تھا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو حضرت خلیفہ اول نے اجازت دیدی بلکہ آپ کے مشورہ سے حافظ روشن علی صاحب ، مولوی سرور شاہ صاحب اور سید امیر حسین صاحب اور عبدالحی صاحب عرب رفقاء سفر تجویز ہوئے اور شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو واقعات سفر قلمبند کرنے کے لئے مقرر کیا گیا۔۲ را پریل ۱۹۱۲ء کو قبل عشاء یہ احباب حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا کوئی سفر بدوں امیر کے جائز نہیں، میں میاں صاحب کو امیر مقرر کرتا ہوں۔وہ تقویٰ اور چشم پوشی سے کام لیں اور رفقاء پوری طرح امیر کی اطاعت کریں اور علم کا تکبر نہ کریں۔کسی سے مقابلہ ہو۔کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو دعاؤں سے کام لیں۔بالآ خر آپ نے دعا فرمائی۔قافلہ نے ہر دواز گیا۔لکھنؤ کے مدارس دیکھے اور سید رشید رضا ایڈیٹر المنار مصر سے بھی ملاقات کی۔کانپور، رامپور اور امروہہ گئے۔دہلی ، دیوبند اور سہارنپور کے مدارس دیکھے اور قریباً دو ماہ کے بعد ۲۹ رمئی کو مراجعت فرما ہوا۔۱۴۰ مبلغین کی تیاری کی طرف خلافت ثانیہ میں خاص طور پر توجہ دی گئی۔چنانچہ مرقوم ہے :۔" حضرت خلیفہ اسی خلیفہ ثانی نے دونئی جماعتیں قائم ہیں۔جو جماعتہائے مبلغین کے نام سے موسوم ہیں۔ان کو تیار کرنے کے لئے آپ نے حضرت مولانا مولوی روشن علی صاحب ، مولانا مولوی قاضی امیرحسین صاحب، مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، میر محمد الحق صاحب، مولوی غلام نبی صاحب اور مولوی صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے کو مقرر فرمایا ہے اور یہ تمام بزرگ اپنے فرائض کو ادا کرنے میں بڑی جانفشانی سے کام لے رہے ہیں۔“ ۱۴۱ 66 بموجب ارشا د حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کہ ایک سال کے اندر مبلغین تیار کئے جائیں۔چیدہ علماء کی تقاریر کا انتظام کیا گیا اور پہلی سہ ماہی کا پروگرام شائع کیا گیا۔ہر ہفتہ کے روز ایک تقریر رکھی گئی تا کہ بیرونی احباب بھی مستفید ہوسکیں۔حضرت مولوی صاحب کے سپرد فضیلت قرآن شریف کا مضمون ہوا۔دیگر مضامین سید نا حضرت امیر ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب و دیگر احباب کے سپرد ہوئے۔۱۴۲ حضرت خلیفتہ اسی ثانی ادام اللہ برکانہ نے عربی مدرسہ احمدیہ کی طرف خاص توجہ فرمائی اور ایک سب کمیٹی نصاب تعلیم پر غور کرنے کے واسطے قائم کی۔چنانچہ نیا نصاب مقرر کیا گیا اور مدرسہ کے انتظام میں بھی تبدیلی کی گئی۔چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو مینجر اور حضرت مولوی سید امیرحسین صاحب کو