اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 183 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 183

آپ نے ۱۹۴۷ء میں مجھے لکھوایا تھا کہ سکھوں والے مکان میں میری رہائش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے کوئی شخص پیغام لایا کہ حضور بلاتے ہیں۔ان دنوں میں بخار سے بیمار تھا اور چلنا پھر نا حضرت مولوی نور الدین صاحب نے منع کیا ہوا تھا۔میں حاضر ہوا تو حضور نے جمعہ پڑھانے کے لئے کہا۔میں نے خطبہ میں سورۃ الکوثر پڑھی اور بیان کیا کہ چونکہ میں بیمار ہوں اس لئے خطبہ میں اختصار کروں گا۔چنانچہ اختصار کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی اور نماز پڑھائی۔حضور نے مجھے مسجد اقصیٰ کا امام مقرر کیا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد حضور نے مجھے مسجد مبارک میں نمازیں پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔اس لئے کہ کبھی مجھے بھی مسجد مبارک میں نماز پڑھانی ہوتی تھی۔چنانچہ میں نے بیسیوں جمعے اور نمازیں مسجد مبارک میں پڑھائیں کہ جن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مقتدی ہوتے تھے۔گذشتہ سال حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے مجھے سنایا کہ ایک دفعہ جمعہ میں نے پڑھایا تو حضور نے (حضرت ) اماں جان کے پاس میری تعریف کی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کو عجیب دماغ دیا ہے۔خلافت اولی میں حضرت خلیفہ اول کی علالت کے دوران میں مولوی صاحب ہی امام الصلوۃ تھے۔البتہ آخری ایام میں حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ( ایدہ اللہ تعالیٰ ) کو امامت کرانے کا ارشاد فرمایا ۹۴ غالباً یہ حضرت صاحب کے جانشین ہونے کی طرف اشارہ تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت میں حضرت ابو بکر گوامام الصلوۃ مقررفرمایا تھا۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے سفر کے ایام میں کبھی آپ کو امیر مقامی مقررفرماتے اور بوجہ امیر بقیہ حاشیہ کو واپس تشریف لے آئے۔۹۵ امیر مقامی ہونے پر آپ بوجہ امیر امام الصلوۃ بھی تھے۔سینکڑوں بارا پنی زندگی کے خلافتِ ثانیہ میں آپ امیر مقامی یا امیر الصلوۃ مقرر ہوئے۔بعض دفعہ امیر مقامی کی شوریٰ کے رکن بھی مقرر ہوئے بطور مثال حوالے درج کئے جاتے ہیں۔(۱) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ۱۹۲۴ء کے سفر یورپ کے موقع پر امیر ہند حضرت مولوی شیر علی صاحب کی شوری کے آپ بھی رکن تھے۔(۲) طبی مشورہ کے مطابق دو ماہ کے لئے ڈلہوزی جاتے ہوئے حضرت مولوی شیر علی صاحب امیر مقامی اور آپ کی شوری مشتمل بر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مولوی محمد دین صاحب ( حال ناظر تعلیم ربوہ ) مقرر کی گئی۔۹۶ پھر مرقوم ہے کہ مولوی شیر علی صاحب شوری کے مشورہ سے اہم امور سرانجام دے رہے ہیں۔۹۷