اصحاب احمد (جلد 5) — Page 177
۱۸۱ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں میں بھی بدل بدل کر امیر مقرر کرتا ہوں۔اس طرح ہر ایک میں فرمانبرداری کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔‘ ۸۶ -۲ تقرر بطور امام الصلواۃ اور بالالتزام با جماعت ادا ئیگی نماز آپ کے اعلیٰ مقام تقویٰ پر یہ امر دال ہے کہ ابھی آپ کی عمر قریبا بتیس سال کی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی امامت میں نمازیں اور جمعے ادا فرمانے لگے۔یہ شرف مولوی صاحب کو بقیہ حاشیہ: - (۳) حضور منصوری تشریف لے گئے تھے۔۱۷ / اپریل ۱۹۳۱ء کو امیر مقامی حضرت مولوی شیر علی صاحب کے چند روز کے لئے وطن جانے پر حضور نے حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کو قائم مقام مقرر فرمایا۔۸۷ (۴) ۸-۳-۲۴ کو حضور نے بعد نماز ظہر اعلان فرمایا کہ میں چار پانچ دن کے لئے باہر جاتا ہوں اور حضرت مولوی صاحب کو امیر مقامی مقرر فرمایا۔۸۸ (۵) ایک دفعہ حضور نے ذیل کا مکتوب تحریر فرمایا:- مکر می مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔انشاء اللہ ہم سب پیر کو ساڑھے پانچ بجے والی گاڑی قادیان واپس آجائیں گے۔جب تار ملے تو موٹروں اور اگر ہو سکے تو گڈے ورنہ ٹانگوں کا انتظام کروا چھوڑیں۔اسباب کے لئے گڑے میں زیادہ سہولت رہے گی۔دو تین آدمی انتظام کے لئے بھی اسباب کے ساتھ مقرر کر چھوڑیں۔انتظام اس طرح کیا جائے کہ مستورات پہلے موٹروں میں روانہ ہو جائیں۔میں اس عرصہ میں دوستوں سے مصافحہ کرلوں گا۔پھر میرے لئے موٹر واپس آجائیں۔اگر براہ راست موثر قادیان آ سکتے ہوں تو پھر ہم اپنے موٹروں میں بٹالہ سے قادیان آجائیں گے۔راستہ کا پتہ لے کر تار دلوا دیں کہ آیا موثر قا دیان آرام سے پہنچ سکتی ہے یا نہیں۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد موٹروں کے براہ راست آنے کی صورت میں بھی گڑے وغیرہ کا اسٹیشن پر انتظام ضروری ہوگا۔وقت کے متعلق آخری فیصلہ کی اطلاع آپ کو بذریعہ تار دی جائے گی۔مرزا محمود احمد ( نوٹ از مؤلف ) ریل گاڑی دسمبر ۱۹۲۸ء میں جلسہ سالانہ کے بالکل قریب جاری ہوئی تھی اس لئے یہ مکتوب اس کے بعد کے عرصہ کا ہے۔