اصحاب احمد (جلد 5) — Page 176
۱۸۰ ۱۲ / فروری ۱۹۱۹ ء کو لاہور تشریف لے جاتے وقت بھی حضور نے فرمایا کہ:- بقیہ حاشیہ: - مزار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دعا کی اور پھر احمد یہ چوک میں سے گذر کر قصبہ کے باہر کھلے میدان میں مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھیں اور اس کے بعد مذکورہ بالا تقریر فرمائی۔حضور ۱۸ اگست کو مراجعت فرما ہوئے۔گویا مولوی صاحب قریباً پونے دوماہ امیر مقامی رہے۔۸۱ کچھ عرصہ تک مبلغین کے اندرونِ ملک بھجوانے کی ذمہ داری امارت مقامی سے متعلق رہی ہوگی۔ابتداء میں خلفاء کرام کی اجازت سے اندرونِ ملک میں مبلغ بھجوائے جاتے تھے۔بعد میں کثرت کام کے باعث یہ طریق کار تبدیل ہو گیا۔بلکہ براہ راست اور کلیۂ نظارت دعوۃ و تبلیغ کے سپرد یہ کام تھا۔البتہ اہم مراکز ہند میں مبلغین کی تبدیلی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے کی جاتی تھی۔حضرت مولوی صاحب (امیر مقامی ) نے درس قرآن مجید کے بعد جماعت کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔اس لمبی تقریر کو سننے کے لئے قادیان کی تمام احمدی آبادی جمع تھی۔پھر آپ نے تمام سمیت دعا کی۔۸۲ ۱۷-۸-۱۸ کو قبل عشاء امیر جماعت نے جماعت کی معیت میں قادیان سے باہر جا کر پہلے نشانِ میل کے قریب حضور کی مراجعت فرمائی پر استقبال کیا۔حضرت ام المؤمنین بھی اپنے لخت جگر کی آمد پر وہاں تشریف لائی ہوئی تھیں۔احباب نے نماز مغرب اسی میدان میں انتظار میں ادا کی۔حضور کی آمد پر اگلے روز زور دار بارانِ رحمت نازل ہوئی۔حالانکہ کہا گیا تھا کہ مون سون نہیں۔۸۳ بعض دیگر مواقع کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:۔(۱) حضور ۲۰-۷-۳۱ کوطبی مشورہ کے مطابق دھرم سالہ پہاڑ پر تشریف لے گئے۔روانگی سے قبل بیت الدعا میں دعا کی اور باہر احباب نے دعا میں شرکت کی۔(۳۰/ جولائی کو جمعہ کے ) دوسرے خطبہ میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو امیر صلوۃ اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کو امیرانتظامیہ مقر فر مایا اور جماعت کو اطاعت کی تعلیم دی۔‘ ۸۴ (۲) چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ عنہ کے حج بیت اللہ سے مشرف ہو کر آنے پر حضرت مولوی صاحب جو امیر مقامی اور امام الصلوۃ تھے۔احباب سمیت دو میل تک پیشوائی کے لئے تشریف لے گئے۔۸۵