اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 173 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 173

122 سارے ہندوستان کے لئے امیر مقرر کیا اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب زاد عزو کو مشورہ کے لئے نائب اور ذیل کے احباب پر مشتمل مجلس شوری تجویز فرمائی:- مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، قاضی امیر حسین صاحب، خلیفہ رشید الدین صاحب، مولوی محمد اسمعیل صاحب فاضل ، میر قاسم علی صاحب، سردار محمد یوسف صاحب (ایڈیٹر نور ) مولوی عبد الغنی صاحب (رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) اور قاضی محمد عبد اللہ صاحب، مولوی فضل دین صاحب وکیل ، قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل اور ستید ولی اللہ شاہ صاحب اور فرمایا :- دفتری معاملات کے علاوہ جو اور معاملات ہوں اور جن میں میں مشورہ لے لیا کرتا ہوں ان میں ان لوگوں سے مشورہ لے لیا جایا کرے۔۔۔علمی کام کو جاری رکھنے کے لئے یہ تجویز ہے کہ مولوی شیر علی صاحب درس قرآن بھی دیں اور اس درس کے بعد مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بخاری کا درس دیں۔یہ دونوں درس اسی مسجد اقصیٰ میں ہوں اور باری باری ہوں۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کے دوست اور بیرونجات سے آنے والے دوست ان درسوں سے فائدہ اٹھائیں گے اور درس دینے والوں سے امید ہے کہ وہ درسوں کو ایسے علوم پر مشتمل کریں گے جو عام طور پر مفید ہوں گے۔بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر چاہیں تو ان کو درسوں میں شامل کر سکتے ہیں مگر عام لوگ انہیں سمجھ نہیں سکتے۔اس وجہ سے میں دونوں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے امور پر اپنے درس مشتمل کریں۔جنہیں عام لوگ سمجھ سکیں اور مختصر کریں تا کہ سننے والوں کو ملال پیدا نہ ہو۔پس یہ درس عام فہم اور مختصر ہوں۔وعظ ونصیحت کا رنگ غالب ہو۔لوگوں کی ابتدائی تعلیم کو مدنظر رکھا جائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کوئی نبی نہیں آتا جو ربانی نہیں ہوتا یعنی جو چھوٹے علوم پہلے نہیں پڑھاتا اور بڑے بعد میں۔پس جب نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ چھوٹے علوم پہلے پڑھائے اور بڑے بعد میں تو دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنا چاہئے چونکہ عام درسوں میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جو موٹی باتیں سمجھ سکتے ہیں اس لئے ایسی باتوں پر ہی زیادہ زور دینا چاہیئے۔" یہ لوگ جو انتظام کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اپنی طرف سے سوچ سمجھ کر کئے گئے ہیں اور میرے ذہن میں اس سے بہتر انتظام اور کوئی نہیں آیا۔“ شوری کے ہر ایک فرد کا الگ الگ ذکر کرتے ہوئے مولوی صاحب کے متعلق فرمایا : -