اصحاب احمد (جلد 5) — Page 172
ہوں کہ احباب ان لوگوں کے کام میں پوری اعانت کریں گے۔ابتدائی کام میں بعض ضروری معلومات حاصل کرنے کے لئے ان احباب کو بیرونجات کے احباب کی بہت مدد کی ضرورت ہوگی۔جس کے لئے ان کو بہت سا وقت خرچ کرنا ہو گا۔مگر اللہ تعالیٰ کی رضاء کے حصول اور اپنے قائم کردہ سلسلہ کے استحکام کے لئے مجھے یقین ہے کہ سب احباب اس تکلیف کو خوشی سے برداشت کریں گے۔اور ہر طرح ان کا ہاتھ بٹا کر ثواب کے مستحق ہوں گے اور ان کی تحریرات کو میری تحریرات سمجھیں گے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۹۲۴ء میں سفر یورپ پر روانگی سے قبل سفر کے عرصہ کے لئے ایک انتظام فرمایا۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کو جو قائم مقام ناظر اعلیٰ تھے۔اس کام سے فارغ کر کے ریویو آف ریلیجنز (اردو) بابت دسمبر ۱۹۱۸ء (ص۴۶۲ ) و تشحیذ الا ذہان بابت فروری ۱۹۲۹ء ( سرورق صفحه ۲ ) بقیہ حاشیہ: ۱۲ افسر بیت المال ۱۹۱۹ء میں۔( رپورٹ سالانہ بابت ۱۹۱۹ء۔۱۹۱۸ء ص ۱۵) اس سال کے لئے تقرری بروئے فیصلہ نمبر ۵۶۳ مورخہ ۱۸-۱۲-۳۰ ہوئی۔قائم مقام محاسب۔۱۹۲۰ء میں بشمول آپ کے تین افراد نے بطور قائم مقام محاسب کام کیا۔۱۴ انفلوئنزا کی وبا کے ہولناک ایام میں ان کے انسداد وغیرہ کا انتظام سلسلہ کی طرف سے قادیان میں کیا گیا تھا۔۱۹۲۰ء میں ہندوستان میں یہ وبا پھر پھوٹی اور پنجاب میں اس کے پھیلنے کا خطرہ تھا۔اس وقت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے منشاء سے نظارت امور عامہ میں فراہمی ادویہ تقسیم ادویہ، بھر سانی دودھ پھل وغیرہ۔صفائی قصبہ وغیرہ کے لئے کام آٹھ شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک شعبہ مولوی صاحب کے سپردکیا گیا۔۷۸ -10 تا وفات آپ افسر مساجد مرکز یہ مبارک واقعی ) رہے۔گو یقینی طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ کب آپ کے سپرد یہ کام ہوا لیکن جہاں تک میرا ذاتی تاثر ہے میری طالبعلمی کے زمانہ میں بھی آپ افسر مساجد تھے۔رپورٹ ہائے سالانہ ۴۲ - ۱۹۴۱ء صفحہ ۴۴،۱۰۵ - ۱۹۴۵ء صفحہ ۴۴ میں آپ کے افسر مساجد ہونے کا ذکر ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۴۷-۸-۸ کے خطبہ جمعہ میں افسوس کے ساتھ فرمایا کہ آپ کی وفات کے بعد مسجدوں کا انتظام نہایت ہی ناقص ہوگیا ہے۔۷۹